کورونا ویکسین کی تیاری میں دوسری چینی کمپنی بھی فائنل ٹرائلز میں داخل


0
19 shares

جہاں اس وقت پوری دنیا اس مشن پر گامزن ہے کہ کس طرح دنیا کو کورونا وائرس کی وباء سے نکلا جائے وہیں اس حوالے سے بیشتر ترقی یافتہ ممالک کورونا وائرس کے توڑ کے لئے ویکسین بنانے میں مصروف ہیں۔ اور پوری ریس میں چین اب سے آگے ہوگیا ہے۔ چینی بائیو ٹیک کمپنی سینوویک کے ساتھ مل کر تیار کی جانے والی ویکسین دنیا کی تیسری اور چین کی دوسری ایسی کمپنی ہوگی جو اس مہنے کے آخر میں ٹیسٹنگ کے آخری مرحلے پر پہنچ جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق چین کی سینوویک نامی نجی کمپنی نے کورونا وائرس کی آئنٹی ڈوس یعنی ویکسین تیار کرلی ہے، جس کو اس ماہ کے آخر میں ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزرنا ہے تاہم چینی کمپنی اور چینی حکومت کو ابھی بھی اس ویکسین کو کامیاب کرانے کے لئے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ چین کے ویکسین کے حوالے سے ماضی کے تجربات اور ان پر بننے والے اسکینڈلز کے باعث چینی کمپنی اور چینی حکومت کو پہلے پوری دنیا کو اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ چین نے اس ویکسین سے منسلک تمام حفاظتی اور کوالٹی کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چین کے ماضی کے تجربات اور اسکینڈلز کے باعث چینی حکومت کو ویکسین کے بڑے پیمانے پر تجربات کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے، کئی بڑے ممالک نے تجربات سے معذرت کرلی ہے تاہم کچھ ممالک جن میں متحدہ عرب امارات، کینیڈا، برازیل، انڈونیشیا اور میکسیکو نے چینی ویکسین کے تجربات اور ٹرائلز کا حصہ بننے کی حامی بھرلی ہے۔ اس پورے ماجرے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں چین کو غیر معیاری ویکسین بنانے پر کئی اسکینڈلز کا سامنا کرنا پڑا ہے البتہ چین نے ویکسین کی صنعت کو ریگولیٹ کرنے کے لئے اب سخت قانون متعارف کروایا جس میں سخت سزائیں شامل ہیں۔ جس پر اقوامی متحدہ کا انٹرنیشنل ویکسین انسٹیٹیوٹ، چین کی نیشنل ریگولیٹری اتھارٹی کی کاوشوں کو سراہا چکا ہے۔

اگر ویکسین کے خصوصیات کے حوالے سے بات کی جائے تو اس وقت چینی کمپنیز ایکٹیویٹڈ ویکسین ٹیکنالوجی پر کام کررہیں، یہ ٹیکنالوجی عام طور پر وبائی نزلہ زکام اور خسرے جیسی بیماریوں کو قابو کرنے کے لئے جو ویکسین بنائی جاتیں وہ ان میں استعمال ہوتی ہے۔ ماہرین کے رائے میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے نتائج کافی بہتر آسکتے ہیں۔ ساتھ ہی چین کی دوسری نجی کمپنی کینسینو جو چینی فوج کے میڈیکل ریسرچ یونٹ کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، وہ بھی اس ہی ٹیکنالوجی پر کام کررہی ہے۔

واضح رہے اس وقت دنیا میں محض دو ویکسین ایسی ہیں جو فائنل فیز 3 کے ٹرائلز سے گزرہی ہیں۔ جس میں ایک چینی کپمنی سینو فارم اور ایک برطانوی آسٹرا زینیکا جو یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ہے جبکہ سینو ویک اس مہنے کے آخر میں تیسری ویکسین ہوگی جو اس دوڑ میں شامل ہوجائے گی۔


Like it? Share with your friends!

0
19 shares

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format