بیڈمنٹن اسٹار ماہ نور شہزاد نے پشتون کمیونٹی سے معافی کیوں مانگی؟


0

معروف پاکستانی بیڈمنٹن اسٹار ماہ نور شہزاد نے حالیہ بیان پر سب سے معافی مانگ لی۔ جس میں انہوں نے ان سے جلنے والے ساتھی کھلاڑیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں پٹھان قرار دیا تھا۔ تاہم انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت جاری کی اور کہا کہ ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا، کہ وہ پشتون کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔

تفصیلات کے مطابق 24 سالہ بیڈ منٹن اسٹار ماہ نور نے 27 جولائی کو ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا تھا، اس ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپنے کچھ مخالف کھلاڑیوں کی تنقید کا بھرپور جواب دیا اور انہیں پٹھان قرار دیا۔ ان کے بیان پر کئی لوگوں کی جانب سے انتہائی پسندیدگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

Image Source: Twitter

ماہ نور شہزاد کے مطابق لوگوں نے میری تعریف کی ، لیکن کچھ بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں جو مکمل طور پر پٹھان ہیں۔ میں پاکستان میں پہلے نمبر پر ہوں ، لیکن ہمارے باقی پاکستانی بیڈمنٹن کھلاڑی میری ترقی سے بہت زیادہ جل رہے ہیں۔ یہ اس طرح ہے کہ آپ نہ تو خود کچھ حاصل کرتے ہیں ، اور نہ ہی آپ چاہتے ہیں کہ کوئی اور حاصل کرے۔

جوں ہی سوشل میڈیا پر ماہ نور شہزاد کی متنازعہ ویڈیو سامنے آئی، تو لوگوں کی جانب سے انتہائی اور غیراخلاقی قرار دیا۔ عوام کی جانب موقف سامنے آیا کہ جس میں اس بیان کو کسی کمیونٹی کے جذبات کو متاثر کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔

بعدازاں ماہ نور شہزاد کی جانب سے ٹوئیٹر پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے تمام پشتون بھائیوں اور بہنوں سے معذرت خواہ ہوں کیوں کہ آپ کو میری باتوں سے تکلیف پہنچی ہے۔ تمام پاکستانی میرے لئے قابل احترام ہیں کیونکہ میں جس مقام پر پہنچی  وہ میرے مداحوں کی وجہ سے ہے۔

بیڈ منٹن اسٹار ماہ نور شہزاد نے کہا کہ لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ سب بھی مجھے سمجھیں۔ ہمارے کچھ بڑے بیڈمنٹن کھلاڑیوں نے 2 جون کے بعد، جب انہیں معلوم ہوا کہ میں اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کروں گی تو انہوں نے اخبارات میں میرے خلاف منفی خبریں دیں۔

اولمپئین ماہ نور شہزاد کے مطابق اس سلسلے میں والد پر پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن کو رشوت دینے کا الزام بھی ہے۔ مجھے پی بی ایف کا لاڈلا قرار دیتے ہوئے ، اولمپکس میں مقابلہ نہ کرنے کی مہارت کی مہم کا سامنا کیا، اگرچے حقیقت یہ ہے کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے قومی بیڈمنٹن چیمپئن ہیں اور لڑکیوں کو بڑے مارجن سے شکست دی ہیں۔

Image Source: Twitter

انہوں سب سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کیا اولمپکس میں شرکت کرنا ان کی غلطی تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ ایک اور بیڈ مینٹن کھلاڑی نے صحافیوں سے گفتگو کی اور دعویٰ کیا کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ اولمپکس میں نمائندگی کریں۔ اگرچے اولمپکس کے قوانین سے آگاہی رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ ایک ہی ملک کی نمائندگی کرنے والے دو افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ٹاپ 16 میں شامل ہوں۔

ماہ نور شہزاد نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا کہ وہ یہاں چند مخصوص لوگوں کا ذکر کر رہی تھیں، جو اولمپکس سے پہلے اور اولمپکس کے بعد سے ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے یہ ریمارکس پٹھان کمیونٹی کے لئے بالکل بھی نہیں تھے۔

واضح رہے ماہ نور شہزاد کا شمار پہلی خاتون پاکستانی بیڈ منٹن کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، جنہیں رواں برس مارچ میں بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن ( بی ڈبلیو ایف) کی جانب سے یونیورسٹی آف لندن سے اسپورٹس مینجمنٹ میں پی جی سرٹیفکیٹ کی 100 فیصد اسکالر شپ کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔


Like it? Share with your friends!

0

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *