پاکستان کی پہلی مس یونیورس کون؟


0

بین الاقوامی مقابلہ حسن دنیا کا سب سے معروف مقابلہ ہے جو 1952 سے مسلسل منعقد کیا جاتا ہے ،یہ ہرسال مختلف ممالک میں منعقد کیا جاتا ہے ۔ مس یونیورس کا ادارہ ہر سال امریکا اور تھائی لینڈ کی مشترکہ شراکت سے یہ مقابلہ منعقد کرتا ہے جس کا بجٹ تقریباً 100 ملین ڈالر ہے۔ رواں سال مس یونیورس کا مقابلہ ایل سلواڈور میں نومبر میں منعقد ہونا ہے۔اس سال ہونے والے مس یونیورس مقابلے میں 90 سے زائد ممالک کی حسینائیں بھی شریک ہوں گی

First Miss Universe  Pakistan

اس مقابلے میں پاکستان نے کبھی حصہ نہیں لیا، تاہم بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد خواتین نے بلاشبہ مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے مقامی مقابلوں میں حصہ لیا لیکن یہ چہرے اکثر لوگوں کے لیے انجان ہوتے ہیں۔

پاکستان کی پہلی مس یونیورس دبئی میں ہونے والے مقابلۂ حسن میں کراچی سے تعلق رکھنے والی ایریکا رابن کو مس یونیورس پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

تاریخ میں پہلی بار کوئی پاکستانی ماڈل رواں سال نومبر میں ایل سلواڈور میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے مقابلہ حسن ’مس یونیورس‘ میں حصہ لینے جا رہی ہیں۔

مقابلے میں شریک پاکستانی ماڈلز کو 200 سے زائد پاکستانی خواتین کے پول سے منتخب کیا گیا تھا۔ مس یونیورس پاکستان 2023 کےلیے ٹاپ 5 فائنلسٹ میں کراچی سے 24 سالہ ایریکا رابن، لاہور سے 24 سالہ حرا انعام، راولپنڈی سے 28 سالہ جیسکا ولسن، امریکی نژاد پاکستانی ریاست پنسلوانیا سے 19سالہ ملائکہ علوی اور پنجاب سے 26 سالہ سبرینا وسیم شامل تھیں۔ ایریکا رابن نے چار دیگر حریف ماڈلز کو شکست دے کر مس یونیورس پاکستان کاتاج اپنے سر پہ سجالیا۔

First Miss Universe  Pakistan
Image Source:Social Media

امیدواروں کو مقابلے کے تین بڑے حصوں کی بنیاد پر اسکور کیا گیا جن میں تیراکی کے لباس کا راؤنڈ اور شام کے گاؤن راؤنڈ بھی شامل ہیں

ٹائٹل جیتنے کے بعد ایریکا رابن نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ مجھے پہلی مس یونیورس پاکستان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے اور میں (دنیا میں) پاکستان کی خوبصورتی کو اجاگر کرنا چاہتی ہوں۔ہماری ثقافت خوبصورت ہے جس کے بارے میں میڈیا بات نہیں کر رہا ہے۔ پاکستانی لوگ بہت فیاض، مہربان اور مہمان نواز ہیں۔‘

First Miss Universe Pakistan

 پاکستانی ماڈل نے اپنی پوسٹ میں لوگوں کو ملک کے ’شاندار پکوانوں‘ سے لطف اندوز ہونے اور پاکستان کے برف پوش پہاڑوں، اس کے سبزہ زاروں اور خوبصورت مناظر کو دیکھنے کی دعوت دی۔

اس موقع پر مس یونیورس پاکستان کے ڈائریکٹر جوش یوگن نے کہا کہ ہماری نئی ملکہ جذبے کے ساتھ، ہمت سے بھری ہوئی ہے اور محبت، بھائی چارے اور مہربانی کے حصول سے آراستہ ہیں ۔۔

ایریکا رابن کون ہے؟

مس یونیورس پاکستان بننے والی 24 سالہ ایریکا رابن بنیادی طور پر ایک فیشن ماڈل ہیں دو سال سے فیشن انڈسٹری سے وابستہ ہیں، ان کا خاندان مذہبی طور پر عیسائی ہے جن کا تعلق کراچی سے ہ وہ اپنے خاندان سے اس صنعت میں کام کرنے والی پہلی خاتون ہیں ۔ وہ تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کی وکالت کرتی ہیں۔ایریکا پاکستان کے متعدد مشہور ملبوسات کے برانڈز کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

First Miss Universe Pakistan
Image Source:Suno Live

ماڈل ایریکا رابن کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں ماڈلز کو سراہا نہیں جاتا ، پاکستان کے لوگ ماڈلنگ کے پیشے سے وابستہ لوگوں کو وہ عزت و احترام نہیں دیتے جو کسی دوسرے پیشے سےتعلق رکھنے والوں کو دی جاتی ہیں م

ان کا مزید کہنا تھا کہ ماڈلنگ بھی ایک مشکل کام ہے جیسے دیگر شعبے ہیں ہمیں بھی ہفتے میں 5 دن 10 سے 12 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے جس کے پیسے ملتے ہیں۔

جب اپوچھا گیا کہ وہ اس مقابلے میں کیسے شامل ہوئیں توانہوں نے جواب دیا کہ ’کچھ ماہ قبل دبئی میں مقیم ایک پیجنٹ کمپنی (مقابلہ حسن کے لیے تیار کروانے والے) یوگون گروپ نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ ڈالی کہ انہیں پاکستان سے مس یونیورس مقابلے کے لیے درخواستیں مطلوب ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مقامی تنظیموں نے پوسٹ دیکھنے کے بعد درخواست دینے کے لیے ہم سے رابطہ کیا۔ 200 درخواستوں میں سے 15 لڑکیوں کا انتخاب کیا گیا جن میں سے 5 کو حتمی طور پر منتخب کیا گیا۔

مفتی تقی عثمانی

جہاں یہ پاکستانی فیشن انڈسٹری کے لیے ایک خوشی کی خبر تھی وہیں ایک مخصوص حلقے کو یہ بات بلکل پسند نہیں آئی۔ نہ صرف کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس مقابلۂ حسن پر تنقید کی وہیں معروف عالم دین مولانا تقی عثمانی نے بھی اس حوالے سے لب کشائی کی

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے پاکستانی لڑکیوں کے عالمی مقابلہ حسن میں حصہ لینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 5 دو شیزائیں عالمی مقابلہ حسن میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی، اگر یہ سچ ہے تو ہم کہاں تک نیچے گریں گے

وفاقی نگران مرتضی سولنگی

دوسری جانب نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ حکومت نے کسی کو ’مس یونیورس‘ مقابلۂ حُسن میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے نامزد نہیں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’حکومت اس خبر کا نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اور کم از کم ملک کی نمائندگی کا تاثر زائل کرے‘۔


Like it? Share with your friends!

0
Annie Shirazi

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *