پی ایس ایل کے فری ٹکٹس نہ مانگیں، نجم سیٹھی کی ٹوئٹر پر درخواست


0

پاکستان کرکٹ بورڈ مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ سیزن 8 کے آغاز سے قبل ہی تمام دوستوں اور ارباب اختیار سے پی ایس ایل کے فری ٹکٹس نہ مانگنے کی درخواست کردی۔

نجم سیٹھی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مفت پاسز مانگنے والوں سے ذاتی طورپر گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ سے شیڈول پی ایس ایل میچز کے فری ٹکٹس یا پاسز کی ڈیمانڈ نہ کریں۔انہوں نےلکھا کہ پی سی بی کا آڈٹ کرنے والی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس عمل سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

Image Source: Propakistani

نجم سیٹھی نے لکھا کہ میں دوستوں اور اعلیٰ حکام سے بھی درخواست کر رہا ہوں کہ کسی کھلاڑی یا کوچ کے انتخاب اور کسی غیر مستحق شخص کو ملازمت یا سہولت فراہم کرنے کے لیے سفارش نہ کریں۔ انہوں نے لکھا کہ پی سی بی دنیا کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تنظیموں سے مقابلہ کرتا ہے اور ناکارہ ہونے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ کیجانب سے پی ایس ایل 8 کے شیدول کا اعلان کردیا ہے، جس کے مطابق پی ایس ایل 8 کا میلہ 13 فروری سے 19 مارچ تک سجے گا اور افتتاحی تقریب ملتان میں ہوگی۔ جبکہ افتتاحی میچ دفاعی چیمپیئن لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کا ہوگا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ مجھے پی ایس ایل 8 سے متعلق پریس کانفرنس کرکے خوشی ہورہی ہے، گزشتہ سال پی ایس ایل کے لئے اچھا رہا، پاکستان سپر لیگ آئی پی ایل سے بڑا ٹی ٹوئنٹی برانڈ ہے، بنگلا دیش، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور دبئی میں لیگ ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے میچز دو مرحلوں میں ہوں گے، پی ایس ایل میچز ملتان، کراچی، راولپنڈی اور لاہور میں ہوں گے، ویمن کے تین نمائشی میچز ہوں گے، ویمن میچز میں غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ مینجمنٹ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں بتایا کہ کوئٹہ میں نمائشی میچ کروانا چاہتے ہیں، کوئٹہ میں میچز کے لئے وہاں کی انتظامیہ سے بھی بات ہوئی ہے۔چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نے کہا کہ یہ روایت ہونی چاہیےکہ حکومت کے تبدیل ہونے پر الگ ہونا چاہیے، پیٹرن کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنا بندہ لائیں، میں نے روایت قائم کرنے کی کوشش کی تھی، میں نے پچھلے دور میں کھلاڑیوں کے لئے دو لیگز کھیلنے کا قانون بنایا تھا۔نجم سیٹھی نے کہا کہ ابھی بھی میں نے لیگز کی پالیسی سے متعلق پوچھا ہے، مجھے بتایا گیا ہے کہ کبھی عمل ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا، پالیسی بنارہے ہیں کہ جو کھلاڑی پی ایس ایل میں ہیں وہ لیگ سے 15 روز قبل فری ہوں تاکہ انجریز نہ ہوں۔

یاد رہے کہ 2014 میں مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے نجم سیٹھی پی سی بی کو پی سی بی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔بعد ازاں 2018 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آئی تو انہیں مستعفی ہونا پڑا اور ان کی جگہ احسان مانی کو نیا چیئرمین پی سی بی مقرر کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارتی عوام ناقص کارکردگی پر سیخ پا، آئی پی ایل پر پابندی کا مطالبہ

نجم سیٹھی نے پی سی بی چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا آغاز کیا اورملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے اقدامات کیے تھے۔ پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کی شان دار کامیابی کے بعد لیگ کے اگلے دونوں ایڈیشن پہلے سے زیادہ کامیاب ثابت ہوئے اور پی ایس ایل نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنانے کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کو بہترین کھلاڑی فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

پی سی بی کے سربراہ کے طور پر ان کے دور میں آئی سی سی ورلڈ الیون، سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔نجم سیٹھی کو 2018 میں مستعفی ہونے سے قبل اگست 2017 میں بورڈ آف گورنرز کے 10 اراکین نے متفقہ طور پر 3سال کے لیے چیئرمین پی سی بی منتخب کیا تھا۔


Like it? Share with your friends!

0

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *