پاکستان اسرائیل کو فلسطین کی آزادی تک قبول نہیں کرے گا

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی سے ایک بار پھر سب کو واضح کردیا کہ پاکستان کسی بھی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، وزیر اعظم نے اس حوالے سے مزید کہا کہ میرا ضمیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے کبھی راضی نہیں ہوگا کیونکہ فلسطین کے معاملے پر ہم سب کو اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔

گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جہاں اپنی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے بات چیت کی وہیں اسرائیل کے حوالے سے ملکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے اس بات کو باور کروایا کہ فلسطینیوں کے حقوق ملنے تک اسرائیل کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔

Image Source: Twitter

وزیراعظم کا اس حوالے مزید کہنا تھا کہہ فلسطین اور کشمیر کی صورتحال بالکل یکساں ہے اگر ہم نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو ہمیں پھر کشمیر سے بھی دستبردار ہوجانا چاہیے۔ لہذا ہم مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق کا سودا کسی صورت بھی نہیں کریں گے۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسرائیل امن معاہدے کے سوال پر وزیراعظم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست قبول نہیں کرے گا پاکستان کا موقف وہ ہی ہے اسرائیل پر جو اس مملکت خداداد کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا، جہاں انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کی تھی اور اسرائیل کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسرائیل اور فلسطین تنازعے پر وزیر اعظم پاکستان نے مظلوم فلسطینیوں کو حقوق نہ ملنے تک اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہ کرنے کا موقف واضح بیان کیا وہیں انہوں نے فلسطین اور اسرائیل تنازعے کا واحد حل دو ریاستی تقسیم کو قرار دیا۔

Image Source: Tribune.pk

دوسری جانب حکومت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ خراب تعلقات کی خبریں بےبنیاد ہیں، ہم ماضی میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی اور آگے چل کر بھی رہیں گے تاہم سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے اور پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔ جبکہ ہماری اس وقت اولین ترجیح ہے کہ کچھ بھی کرکے امت مسلمہ کو ایک جگہ یکجا کیا جائے جو کہ ایک بہت مشکل کام ہے لیکن ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔

ایک طرف وزیراعظم پاکستان نے دیئے گئے انٹرویو میں حکومت پاکستان کی اسرائیل کے خلاف واضح پالیسی بیان دیا وہیں دوسری طرف سوشل میڈیا پر وزیر اعظم پاکستان کے موقف کو خوب سہرایا جارہا ہے لوگ جہاں وزیر اعظم پاکستان کے موقف کی تائید کررہے ہیں وہیں وہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے بھی ہیں۔

یاد رہے اسرائیل کے قیام کے بعد سے پاکستان اور اسرائیل کے مابین کسی بھی قسم کے کوئی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ پاکستان ان ریاستوں میں شامل ہے جنہوں نے ابھی تک اسرائیل کو بطور ریاست قبول نہیں کیا ہے اور فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago