Aga Khan University
عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛ ڈاکٹر کریم دمجی، آغا خان یونیورسٹی، ڈین میڈیکل کالج؛ طاہر حسین، محکمہ صحت سندھ، سیکریٹری؛ ڈاکٹر انیتا زیدی، گیٹس فاؤنڈیشن، صدر برائے صنفی مساوات؛ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، حکومت سندھ، وزیر صحت و بہبودِ آبادی؛ ڈاکٹر مریم مصطفیٰ، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛ اور نوید اکبر، گیٹس فاؤنڈیشن، ایم این سی این ایچ کنسلٹنٹ۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے یہ شراکت داری سندھ بھر کے عوامی صحت کے نظام میں طبی تحقیق اور آواز پر مبنی مصنوعی ذہانت کی جدت کو مربوط کرے گی۔
حکومت سندھ کے محکمہ صحت، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) اور آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) نے ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز کو عوامی صحت کے نظام میں مربوط کرنے کے لیے تین سالہ تعاون کے خط پر دستخط کیے ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے بنیادی سطح پر فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات میں مصنوعی ذہانت کو شامل کیا جائے گا تاکہ انتہائی کمزور خواتین اور بچوں کے لیے صحت کے اشاریوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ معاہدہ بدھ، 2 ستمبر 2026 کو سندھ کے وزیر صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے دفتر میں محکمہ صحت کے سیکریٹری طاہر حسین، لمز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، مرکز کی ڈائریکٹر اور پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر مریم مصطفیٰ اور اے کے یو کے میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر کریم دمجی نے دستخط کیا۔
گیٹس فاؤنڈیشن کی صدر برائے صنفی مساوات ڈاکٹر انیتا زیدی بھی دستخط کی تقریب میں موجود تھیں۔ گیٹس فاؤنڈیشن کثیر سالہ گرانٹ کے ذریعے مرکز کی معاونت کر رہی ہے۔ اس موقع پر اے کے یو کے شعبہ اطفال و صحتِ اطفال کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے بھی موجود تھیں، جو فوری طبی نگہداشت کے مقام پر الٹراساؤنڈ کے لیے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر کام کر رہی ہیں۔
تینوں ادارے مشترکہ طور پر خطرے کی درجہ بندی کے ماڈلز، طبی فیصلوں میں معاونت فراہم کرنے والے نظام اور آواز کے ذریعے معاونت فراہم کرنے والے آلات متعارف کرائیں گے، جو ماں اور بچوں کی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے بنیادی سطح کے طبی کارکنوں کی مدد کریں گے۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ اس اقدام میں ان کی توجہ بنیادی صحت کی سہولتوں پر ہے۔ انہوں نے کہا “میں صحت مند بچوں کی پیدائش دیکھنا چاہتی ہوں اور قبل از وقت پیدائش کی شرح میں کمی چاہتی ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس اقدام سے پیدائشی مسائل کی نشاندہی اور پیرا میڈیکل خدمات میں بہتری لانے میں بھی مدد ملے گی۔“
یہ مرکز کمپیوٹر سائنس کے ماہرین، انسان مرکز ڈیزائن کے ماہرین اور طبی وبائی امراض کے ماہرین کے درمیان کئی سالہ تعاون کا نتیجہ ہے۔ اس کی طبی بنیاد اے کے یو کی ڈاکٹر فیزہ جہاں کے کام سے حاصل ہوتی ہے، جو شعبہ اطفال و صحتِ اطفال کی چیئر اور مرکز کی طبی تحقیق کی سربراہ ہیں۔ ان کے طبی آزمائشوں کے نیٹ ورکس، ماں اور نوزائیدہ بچوں کے گروپ پر مبنی ڈیٹا سیٹس اور فیلڈ میں کی جانے والی وبائی امراض سے متعلق تحقیق حقیقی دنیا میں درکار طبی توثیق فراہم کرتی ہے، جو درست پیش گوئی کرنے والے الگورتھمز کی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اعلیٰ معیار کے طبی ڈیٹا کی بنیاد پر تیار ہوں اور کم وسائل والے ماحول میں صحت کی خدمات کی فراہمی کی حقیقی صورتحال سے ہم آہنگ ہوں۔
دستخط کے بعد اے کے یو کے ڈین ڈاکٹر کریم دمجی نے کہا “ہمارے پاس بہترین فیکلٹی ہے اور یہی اصل کمال ہے۔ میرے خیال میں یہ شاندار ہے کیونکہ ہم لوگوں کو بہتر خدمات فراہم کر رہے ہیں، اس معاملے میں ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت کے شعبے میں، اور ایسے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ ماؤں کے لیے محفوظ زچگی اور بچوں کے لیے ہم کیا قدر فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں [مصنوعی ذہانت] کو اپنانا ہوگا اور اسے زیادہ سے زیادہ کم لاگت اور مؤثر بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔“
مرکز کی ٹیکنالوجی ڈاکٹر مریم مصطفیٰ کے پیش رو منصوبے آوازِ صحت پر مبنی ہے، جو آواز کے ذریعے چلنے والا الیکٹرانک ریکارڈ مینجمنٹ پلیٹ فارم ہے اور جسے ابتدائی طور پر گرینڈ چیلنجز گرانٹ کے تحت مالی معاونت فراہم کی گئی تھی۔ ان کی ٹیم کا مقامی زبانوں میں آواز کی شناخت اور قدرتی زبان کے ڈھانچوں پر کام، جو کم خواندگی والے ماحول کے لیے تیار کیا گیا ہے، بنیادی سطح کے صحت کارکنوں کو اپنی مقامی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے آلات کے ساتھ باآسانی کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔
ڈاکٹر مریم مصطفیٰ نے کہا “بطور کمپیوٹر سائنس دان، مصنوعی ذہانت اور صحت کے شعبے میں کام کرتے ہوئے جو چیز مجھے سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے آلات اپنانے کے معاملے میں پاکستان دوسرے ممالک سے بہت، بہت پیچھے ہے۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسا باقاعدہ ڈیٹا انفراسٹرکچر موجود نہیں جو مصنوعی ذہانت کے آلات کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں مدد دے سکے۔ ٹیکنالوجی کا حصہ دراصل تیار کرنا آسان ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے موجودہ نظام میں کیسے شامل کیا جائے اور حکومتوں کو اسے اپنانے اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے کیسے تیار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انتہائی دور دراز علاقوں کو بھی ان آلات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔“
محکمہ صحت و بہبودِ آبادی، حکومت سندھ:حکمتِ عملی کی نگرانی، صوبائی طبی سہولتوں میں انضمام، قومی صحت کی پالیسیوں سے ہم آہنگی اور سرکاری شعبے میں نفاذ کی ذمہ داری ادا کرے گا۔
لمز:تکنیکی شراکت دار کے طور پر کام کرے گا اور ماڈلز کی تیاری، الگورتھمز کی توثیق، آواز سے متعلق ٹیکنالوجیز اور تکنیکی حفاظتی اقدامات کی قیادت کرے گا۔
آغا خان یونیورسٹی:طبی، تحقیقی اور نفاذ کے شراکت دار کے طور پر کام کرے گی اور طبی تحفظ، حقیقی دنیا میں آزمائش کے جائزے اور بنیادی صحت کی سہولتوں میں عملی نفاذ کی رہنمائی کرے گی۔
یہ تعاون قومی ضابطہ جاتی معیارات، ڈیٹا کی رازداری سے متعلق رہنما اصولوں اور اخلاقی حفاظتی اقدامات کی سختی سے پابندی کرے گا، جبکہ بنیادی عزم یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حل طبی فیصلوں میں معاونت کریں گے، طبی فیصلہ سازی کی جگہ نہیں لیں گے۔
لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…
: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…
کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…
فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…
پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…