پشتو زبان اور پختونوں پر مذاق پر آغا علی کی عوام سے معذرت

پاکستانی نامور اداکار اور فنکار آغا علی جن کا شمار پاکستان کی ڈارمہ انڈسٹری کے ام چند صف اول کے فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت ہی کم عرصے میں اپنی فنی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ آغا علی کے حوالے سے جہاں یہ بات مشہور ہے کہ وہ جتنے بہترین اداکار ہیں وہیں وہ اتنے ہی زبردست انسان ہیں۔

البتہ حالیہ دنوں اداکار آغا علی ایک بڑی مشکل کی زد میں ہیں کیونکہ ان کا ایک پانچ سال پرانا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ جس میں انہوں نے پشتو زبان اور پختونوں سے متعلق ایک مزاحیہ تبصرہ کیا تھا، جو اس وقت تو نہیں لیکن پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر گویا کوئی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل آیا اور بات اس حد تک پہنچ گئی کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر “ھیش ٹیگ آغا علی معافی مانگو” کا ٹوئیٹر کے مقبول ترین ٹرینڈ میں سے ایک بن گیا۔

Image Source: Propakistani.pk

یہ تمام صورتحال پیدا ہونے کے بعد اب اداکار آغا علی کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک وضاحتی بیان جاری کردہ گیا ہے جس میں انہوں نے اس پورے معاملے پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا بھی دل دکھا ہو، اس پانچ سال پرانی ویڈیو کلپ کو دیکھ کر تو میری طرف سے معذرت ہے، جبکہ جس پٹھان دوست کے ساتھ یہ مذاق ہو رہا تھا یعنی نیلم منیر، وہ بہت زیادہ ہنسی تھی کیونکہ ان کو میری نیت کا بخوبی اندازہ تھا لیکن پھر بھی اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید لکھا کہ میں اپنے ہر ایک مدعا سے برابر کی محبت اور اس کی فکر کرتا ہوں۔ لیکن افسوس کے ساتھ سوشل میڈیا نے اس پورے واقعے کو ایک مختلف اور الگ رخ دے دیا۔ وہاں ایک پٹھان مہمان موعو تھیں، جو میری دوست تھیں اور وہ میری بات سے بالکل بھی ناراض نہیں ہوئیں لیکن میرے خیال سے کسی کو بھی ناراض نہیں ہونا چاہئے۔ پٹھان تو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

واضح رہے پاکستان میں بسنے والی تمام قومیتیں پاکستان کی مضبوطی اور یکجہتی کی علامت ہیں۔ ہر کسی کی اپنی روایات اور ثقافت ہے لہذا اس کا احترام ہم سب پر بطور پاکستانی فرض ہے۔

مزید جانئے: پاکستانی ماڈل محمد علی سبحانی کی برطانیہ میں دھوم

اگر اس معاملے کے حوالے سے بات کی جائے تو سوشل میڈیا پر پانچ سال پرانی ویڈیو کو وائرل کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ملک میں عوام کو قومیتوں میں تقسیم کریں اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ اس طرح کے مذاق سے پرہیز ہونا چاہئے اور ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ یہ غلطی آغا علی کی جانب سے غیر دانستہ طور پر سر زد ہوئی ہے اور انہوں نے معافی مانگنے کے مطالبہ کو پورا کرکے بہت اچھا اقدام اٹھایا ہے کیونکہ ملک ایک گھر کی طرح ہے جہاں پر مل جل رہنا سب کے لئے ضروری ہے، جہاں چھوٹی موٹی نوک جھونک بھی ہوجاتی ہے لیکن اسے جلدی ختم کرلینا اچھی روایات میں شامل کیا جاتا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago