سرگودھا میں زیادتی کا شکار لڑکی کو بھائی نے ہی گولی مار کر قتل کردیا

اتوار کے روز سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے گاؤں بیہک لورکا میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی متاثرہ لڑکی کو اپنے ہی سگے بھائی نے گولی مار کر قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق 28 سالہ متاثرہ لڑکی کو چند روز قبل ایک بااثر خاندان کے چار ملزمان نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ تھانہ لکسیان نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا لیکن مبینہ طور پر ان کی گرفتاری کے لیے کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی تھی۔

Image Source: File

غصے کے نتیجے میں مقتول کے بھائی نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اپنی بہن کو گولی مار کر قتل کر دیا اور موقع سء فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ بعدازاں پولیس نے اسے اس وقت گرفتار کیا جب، پولیس انتظامیہ کے مطابق، وہ چار مبینہ عصمت دری کرنے والوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

اس موقع پر مشتبہ شخص نے پولیس کو بتایا کہ اس نے خود ہی کارروائی کی کیونکہ پولیس نے ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار نہیں کیا جو اس کے اہل خانہ سے ‘مفاہمت’ کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ دوسری جانب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ریپ کے ملزمان نے عدالت سے 11 فروری تک عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔

دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں ایک اور 14 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ملزم فرار ہوچکا ہے۔ کوٹ مومن میں قتل کے واقعے کے بعد پولیس حرکت میں آگئی اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔

Image Source: File

جنسی تشدد کے واقعات میں متاثرہ کو مورد الزام ٹھہرانا ایک عالمی رجحان ہو سکتا ہے، لیکن افسوس یہ پاکستان میں عام بات ہے۔ بہت سی ثقافتوں میں، عصمت دری کے شکار افراد کو ان کے خاندانوں اور رشتہ داروں کی طرف سے غیرت کے نام پر قتل سمیت شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ان کے اہل خانہ کی ’ذلت‘ لانے کے لیے سزا دینا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل اکثر مقتول کے خاندان کے لیے حملہ آور کے خلاف انتقام سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔

واضح رہے پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان میں جنسی زیادتی کیسز میں ایک غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، بہاولپور کی تحصیل حاصل پور میں چھے مسلح افراد ایک گھر میں داخل ہوئے جہاں 6 ملزمان نے ناصرف اسلحے کی زور پر گھر کے تمام افراد کو یرغمال بنایا اور نوجوان لڑکی کو اہلخانہ کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، وہیں ملزمان نے متاثرہ لڑکی کے بھائی کا جسمانی اعضاء بھی منقطع کردیا۔

یاد رہے اس سے قبل گجرانوالہ سے دردناک واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں 23 سالہ لڑکی کے ساتھ کچھ اوباش لڑکوں کی جانب سے چھیڑ چھاڑ کی گئی، جس میں انہوں نے خاتون کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے، اس سلسلے میں خاتون نے 15 پر کال کرکے شکایت درج کرائی، تو پولیس نے انہیں انکوائری کے غرض سے اروپ تھانے طلب کیا، جہاں درندہ صفت اے ایس آئی مبشر نے شکایت کنندہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا ڈالا تھا۔ بعدازاں سی سی پی او گجرانوالہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago