موٹروے ریپ کیس میں ملوث ملزم شفقت گرفتار، اعتراف جرم کرلیا

لاہور موٹروے اجتماعی زیادتی کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور اس کیس میں ملوث مرکزی ملزمان میں سے ایک ملزم شفقت علی پکڑا گیا ہے اور پولیس کی تحویل میں ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارمجرم کی گرفتاری کی تصدیق کردی

Image Source: Twitter

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنی ٹوئٹ میں اس بات کی بھی تصدیق ہے کہ ملزم شفقت کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے جمع کیے گئے نمونوں سے میچ کرگیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے دوسرے مرکزی ملزم عابد علی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہماری پوری ٹیم مسلسل کوششوں میں مصروف ہے اور اس کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق ملزم شفقت کا پہلے سے ہی مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وقارالحسن کی شناخت کے بعد سی آئی اے کے اینٹی آرگنائزڈ کرائم سیل نے دیپال پور میں کارروائی کی اور ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا۔

لاہور موٹروے زیادتی کیس میں دیپال پور سے گرفتار کیے گئے ملزم شفقت علی نے پولیس حراست میں اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے ۔ملزم شفقت نے بتایا کہ وہ اور ملزم عابد ڈکیتی کی غرض سے موٹروے پر موجود تھے جہاں انہوں نے ایک کار کو دیکھا تو کار کی ریکی کی۔

اس حوالے سے زیر حراست ملزم شفقت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مرکزی ملزم عابد نے اس کو اور بالا مستری کو واردات کرنے کے لئے بلایا تھا ،ہم تینوں افراد ڈکیتی کا ارتکاب کرنے نکلے تھے لیکن بالا مستری راستے سے واپس چلا گیا۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق ، شفقت نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ واقعے کے وقت نشے میں تھے اور شروع میں ان کا منصوبہ صرف ڈکیتی کرنا تھا۔

شفقت نے مزید بتایا کہ واردات کی رات گاڑی کو سڑک کنارے کھڑا دیکھا تو عابد نے پہلے گاڑی کا شیشہ توڑا، گاڑی کا شیشہ توڑنے سے عابد کا ہاتھ بھی زخمی ہوا۔

Image Source: Twitter

ملزم نے مزید کہا کہ شکار کو لوٹنے کے بعد ہم دونوں نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا فیصلہ کیا ،لیکن عورت کی جانب سے سخت مزاحمت کے بعد اسے آف روڈ لانے کے لئے اس کے بچوں کو گھسیٹتے ہوئے قریب کی جھاڑیوں تک لے گئے تاکہ وہ خود ہمارے پیچھے آجائے، اور ہماری توقع کے مطابق وہ عورت بچوں کی وجہ سے مرکزی سڑک سے ہمارے پیچھے آگئی جہاں ہم نے اس کے ساتھ عصمت دری کی۔

ملزم شفقت نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماضی میں اسی جگہ پر مختلف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

لاہور موٹروے اجتماعی زیادتی کے ملزم شفقت کے بیان کے مطابق ان دونوں نے شیخوپورہ ضلع کے قلعہ ستار شاہ کے علاقے میں کچھ دن ساتھ گزارے ،پھر شفقت دیپال پور آگیا جبکہ مرکزی ملزم عابد مانگا منڈی میں اپنے والد سے ملنے چلا گیا۔ ملزم شفقت کے مطابق عابد سے آخری بار تین دن پہلے اس کی بات ہوئی تھی۔

شفقت کا اس حوالے سے مزید بتایا کہ انہوں نے شیخوپورہ میں ڈکیتی کے دوران ایک خاتون کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کی کوشش کی تھی تاہم پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد کوشش ناکام ہوگئی۔

واضح رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹروے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم شفقت کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ جبکہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لئے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago