جہاں زیادتی ہوئی، وہ موٹروے نوازشریف نے بنوائی، شہبازشریف

گزشتہ ہفتے لاہور موٹر وے پر درندگی کا ایک ہولناک واقعہ پیش آیا، جس میں سٹرک پر پیٹرول ختم ہوجانے کے باعث روڈ پر کھڑی خاتون اور ان کے تین بچوں کو نامعلوم مجرمان کی جانب سے ناصرف یرغمال بنایا گیا بلکہ ظلم کی انتہاء کرتے ہوئے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہ واقعہ جوں سوشل میڈیا اور ٹی وی پر آیا تو گویا پورے ملک میں غم و غصے کی فضاء پیدا ہوگئی، سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ مجرمان کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

اس سلسلے میں کل قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جہاں ارکانِ اسمبلی کی جانب اس کیس پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا کچھ نے سزائیں تجویز کیں اور تو کسی نے ایسے واقعات روکنے کے حوالے سفارشات پیش کی۔ تاہم جب باری اپوزیشن لیڈر یعنی پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی آئی تو انہوں خطاب کے دوران ایسے بات کی کہ ناصرف سننے والے حیرت میں مبتلا ہوگئے بلکہ ان کے غم و غصے میں اضافہ اور بڑھ گیا۔

Image Source: tribune.com.pk

اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف یوں تو ناپ تول کر بولنے والے میں شمار کئے جاتے ہیں تاہم کل اسمبلی اجلاس میں اتنے اہم موضوع پر بات کرتے ہوئے لوگوں کو چونکنے پر اس وقت مجبور کردیا جب انہوں اس واقعے پر اظہار خیال کیا اور پھر اس دوران ان کی جانب پورے ایوان کو بتایا گیا کہ “لاہور موٹر وے پر یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا، تو یہاں پر یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہوگا کہ یہ موٹر وے الحمدلله میاں نواز شریف کی سربراہی میں بنائی گئی”.

ایک جانب جہاں اس جملے پر لوگوں کو تعجب ہوا تو وہیں دوسری جانب اس بیان کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان اسمبلی کی طرف سے دیئے جانے والے ردعمل بھی حیرت انگیز تھا جہاں ایک انتہائی سنجیدہ گفتگو پر ایک طرف اس طرح کی بات کی گئی جہاں اس بات کی کوئی ضرورت نہیں تھی وہیں اراکین اسمبلی کا ردعمل بھی انتہائی شرمناک تھا۔

لوگوں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کے اس بیان پر سوچنے پر مجبور ہیں، کیا یہ یہاں پر سیاسی اسکورنگ کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ لوگوں یاد یہ موٹر وے کا پروجیکٹ پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔

سوشل میڈیا پر اپوزیشن میاں محمد شہباز شریف کے اس بیان کی ویڈیو کافی وائرل ہے لوگوں کی جانب سے کافی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ ایک جگہ جہاں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا وہاں سے ایک سیاسی بات کو جوڑ کر سیاسی بیان دینا یا سیاست کرنا انتہائی نامناسب اور غیرضروری عمل تھا۔ اپوزیشن لیڈر اس واقعے پر ٹھوس اور دو ٹوک ردعمل دینا چاہئے تھا ناکہ سیاسی بیان۔

یاد رہے وزیراعظم پاکستان عمران خان گزشتہ روز موٹر وے زیادتی کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ تجویز دی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ زیادتی کے ملزمان کو یا تو سرے عام سزا دی جائے یا تو مجرم کی خصوصی جنسی صلاحیتوں کو ختم کردیا جائے تاکہ وہ لوگوں کے لئے ایک نشان عبرت ہو۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

7 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago