نیکیوں کے دس دن کا آغاز، ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام کی فضیلت و اہمیت

اسلامی سال کا آخری مہینہ “ذوالحجہ “کہلاتا ہے ، ذوالحجہ کا مہینہ بڑااہم ہے، ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن جنہیں “ایام العشر” کہا گیا ہے، یہ بھی بڑی فضیلت کے حامل ہیں۔

قرآن کریم کی سورۂ فجر کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھائی ہے، ان چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ “ولیال عشر” اور قسم ہے دس راتوں کی، دس راتوں کی قسم اٹھانے کا معنی یہ ہے کہ بڑی اہم راتیں ہیں، اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:
“ان سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دن ہیں اور یہ سال کے سب سے زیادہ افضل دن ہیں۔ان ایام میں ایک دن کا روزہ اللہ کے ہاں ثواب میں ایک سال کے روزوں کے برابر ہے، اور ایک رات کی عبادت لیلۃ القدر کی عبادت کی طرح اجر وثواب رکھتی ہے”۔

Image Source: Unsplash

اس روایت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ان دنوں میں روزے رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور جس قدر ممکن ہو عبادات کریں خصوصاً رات کے اوقات اور رات کا آخری حصہ اس میں جس کو عبادت کی توفیق مل جائے، وہ اگرچہ دو رکعت نفل ہی کیوں نہ ہوں بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔

احادیث میں بھی ان دس دنوں کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے اور ان دنوں کی عبادت، ذکر الہی، روزہ رکھنے کا ثواب عام دنوں سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ایک اور جگہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلؔی اللؔہ علیہ وآلٖہ وسلؔم نے فرمایا کہ:
“اللہ تعالیٰ کو اپنی عبادت بجائے دوسرے اوقات و ایام میں کرنے کے عشرہ ذوالحجہ میں کرنی محبوب تر ہے۔اس کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ایک ایک رات کا قیام، لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے”۔

Image Source: Unsplash

اللہ کے ذکر کی فضیلت عام دنوں میں بھی ہےلیکن ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام برکت اور رحمت کے ہیں کیونکہ یوم عرفہ بھی انہی دنوں میں ہے۔اس لئے ان ایام میں کثرت سے اللہ کو یاد کرنا اور روزہ رکھنا افضل قرار دیا گیا ہے۔ حدیثِ مبارک میں ان میں سے ہردن کے روزے کو  اجر میں ایک سال کے روزوں کے برابر قرار دیا گیا ہے، نیز خاص عرفہ (نو ذوالحجہ) کے روزے کے بارے میں  حضرت محمد مصطفی صلؔی اللہ علیہ وآلٖہ وسلؔم نے ارشاد فرمایا کہ :
“یہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے”۔

ذوالحجہ کے یہ پہلے دس دن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اور محبوب ترین دن ہیں اور ان دس دنوں میں اللہ کا ذکر، تسبیح و تحلیل، قرآن پاک کی تلاوت ، روزے رکھنا، اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا افضل ترین اعمال ہیں۔ان دنوں میں صدقہ ،صلہ رحمی،نفلی عبادات، قرآنی و مسنون دعاؤں کے ساتھ کثرت سے استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ اس کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

چونکہ ان ایام کی عبادات اور اعمال اللہ کو بہت پسند ہیں ، اس لئے بطور خاص ان ایام میں انسان نیک اعمال کرتارہے ،جس عمل کی بھی توفیق ملے، اس توفیق کو انسان غنیمت سمجھے۔ پیچھے نہ ہٹے، یہی دنیا وآخرت کی فلاح کا ذریعہ ہیں، کسی بھی نیک عمل کو معمولی نہ سمجھے ، نہ معلوم اللہ کے ہاں کس عمل کی قبولیت ہوجائے اور انسان کی مغفرت کا سبب بن جائے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان ایام میں دن میں روزہ رکھیں اور رات میں جس قدر ممکن ہو عبادت سے اپنے آپ کو محروم نہ رکھیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago