عدالت نے ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی اجازت دے دی

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی نوجوان خاتون ڈاکٹر سیدہ ماہا شاہ کیس میں نئی اور اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ عدالت نے ڈاکٹر سیدہ ماہا شاہ کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی اجازت دے دی۔

ٍڈاکٹر ماہا شاہ کی مبینہ خودکشی سے متعلق کیس کی سماعت آج کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں ہوئی جہاں عدالت خودکشی کرنے والی خاتون ڈاکٹر ماہا شاہ کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم سے متعلق دائر کی گئی درخواست کو منظور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ڈاکٹر ماہا شاہ کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اپنا تحریری فیصلہ جاری کردیا، فیصلے کے مطابق عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عدالت کو قبر کشائی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں۔ عدالت کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ عدالت کیس کی تفتیش میں کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کرے گی، استغاثہ قانون کے مطابق کاروائی کرے۔

عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے تحریری بیان میں عدالت نے مزید لکھا ہے کہ ڈاکٹر ماہا شاہ کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم قانون کے مطابق کی جائے۔

واضح رہے گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نوجوان خاتون ڈاکٹر ماہا شاہ نے مبینہ طور پر گھر کی بالائی منزل پر خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی، تاہم پولیس کی جانب سے جب اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تو پولیس کو سر میں گولی لگنے کے حوالے سے ابہام پیدا ہوا۔

اس حوالے سے اس کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر شرافت علی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق ملزمہ کو سر میں بائیں جانب سے گولی لگی اور دائیں جانب سے گولی باہر نکلی۔

تاہم ڈاکٹر ماہا شاہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کام کیا کرتی تھیں، جبکہ کرائم سین کے حوالے سے پولیس نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کو سر میں دائیں جانب سے گولی لگی اور بائیں جانب سے گولی نکل گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ بائیں جانب دیوار پر کوئی نشان بھی موجود نہیں۔

جبکہ اس کیس کے مدعی یعنی لڑکی کے والد سید آصف شاہ کی درخواست ہے کہ ڈاکٹر نے رپورٹ غلط دی ہے لہذا مدعی مقدمے کے موقف کی تصدیق کے لئے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی اجازت دی گئی تاکہ سارے ابہام دور ہوجائیں۔

یاد گزشتہ ماہ کی 26 تاریخ یعنی 26 اگست کو پولیس تحقیقات کے دوران متوفی کے والد کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے تین ملزمان کو نامزد کیا تھا جن میں ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوست جنید خان، ڈاکٹر عرفان اور وقاص شامل ہے۔ جنہوں نے ان کی بیٹی کو نشے کی لت میں لگایا، پھر بلیک میل اور دھمکیاں بھی دی جانے لگی تھی، اس دوران اسے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس سے تنگ آکر اس نے خودکشی کرلی۔

خیال رہے جنید خان ان تمام الزامات کو سرے سے رد کرچکے ہیں، ان کے مطابق وہ اور ڈاکٹر ماہا پچھلے چار سال سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور جلد شادی کرنے والے تھے، البتہ ڈاکٹر ماہا اپنی گھریلو پریشانیوں کے باعث ذہنی تناؤ کا شکار تھیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago