لاہور: کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے میوزک پروجیکٹ کی چوتھی پیشکش ’’شبنم‘‘ ریلیز کر دی، جس میں گلوکار مانو اور زوہا وسیم نے اپنی آوازوں کا جادو جگایا ہے، جبکہ گانے کی پروڈکشن طلال قریشی نے کی ہے۔ یہ گانا محبت، بے یقینی، شک اور رشتوں میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو ایک منفرد موسیقی اور بصری انداز میں پیش کرتا ہے۔
’’شبنم‘‘ کی کہانی ایک نامکمل موسیقی کے اشتراک سے شروع ہوئی، جس پر طلال قریشی اور مانو پہلے ہی کام کر رہے تھے۔ بعد ازاں اس منصوبے میں زوہا وسیم بھی شامل ہوئیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسا گانا سامنے آیا جو ایک ہی رشتے کو دو مختلف زاویوں سے بیان کرتا ہے۔ شبنم کے معنی صبح کے وقت پودوں پر جمنے والے اوس کے قطروں کے ہیں، جو زیادہ دیر برقرار نہیں رہتے۔ گانے کا عنوان بھی اسی عارضی کیفیت اور جذباتی ناپائیداری کی علامت ہے۔
گانے کے آغاز میں مانو رشتے کے بارے میں اپنے شکوک و شبہات اور بے یقینی کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ زوہا وسیم اسی تعلق کو اپنے مختلف نقطۂ نظر سے بیان کرتی ہیں۔ دونوں گلوکاروں کی آوازیں ایک دوسرے کے ساتھ چلتی ہیں، تاہم کہانی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتی۔ اس انداز میں محبت اور بدگمانی کے درمیان موجود کشمکش کو نمایاں کیا گیا ہے۔
گانے کی میوزک ویڈیو کی ہدایت کاری فدا معین نے کی ہے، جس میں حقیقت اور تصور کے درمیان فرق کو دلچسپ اور قدرے غیر معمولی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں روزمرہ گھریلو مناظر رفتہ رفتہ ایک ایسے ماحول میں تبدیل ہوتے ہیں جہاں معمولی اشیا اور عام رویے بھی مختلف معنی اختیار کرنے لگتے ہیں۔ کہانی آگے بڑھتے ہوئے سالگرہ کی ایک تقریب تک پہنچتی ہے، جہاں جشن افراتفری میں بدل جاتا ہے اور گھریلو ماحول میں موجود تناؤ نمایاں ہو جاتا ہے۔ طلال قریشی بھی ویڈیو میں بطور ڈی جے نظر آتے ہیں، جو ایک پارٹی میں پہنچتے ہیں، مگر وہاں پہلے سے موجود بے یقینی اور بدگمانی کی کیفیت کا سامنا کرتے ہیں۔
ویڈیو کی پروڈکشن ڈیزائن اور آرٹ ڈائریکشن کی ذمہ داریاں تنیا مرزا نے انجام دی ہیں۔ اس کے بصری انداز میں بروٹلزم طرزِ تعمیر اور جرمن ایکسپریشنزم کے ڈرامائی اثرات شامل ہیں۔ بلند و بالا اندرونی حصوں، سرمئی رنگوں، کنکریٹ کے ڈھانچوں، ترتیب سے رکھی کتابوں، تنہا سیڑھی اور سادہ باورچی خانے کے ذریعے ایک ایسا ماحول تخلیق کیا گیا ہے جو بظاہر مانوس ہونے کے باوجود بے چینی کا احساس پیدا کرتا ہے۔

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کے ایگزیکٹو پروڈیوسر کمال خان نے گانے کے حوالے سے کہا کہ ’’شبنم‘‘ میں ابتدا ہی سے ایک خاص تناؤ موجود تھا، جو انہیں پسند آیا۔ ان کے مطابق طلال قریشی اور مانو نے اس منصوبے پر پہلے کام شروع کیا تھا، تاہم زوہا وسیم کی شمولیت سے ایک ہی کہانی کے دو مختلف رخ سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ فدا معین نے میوزک ویڈیو میں بدگمانی اور بے چینی کو مزاحیہ اور غیر معمولی انداز میں پیش کیا، جبکہ تنیا مرزا نے ایسا بصری ماحول تخلیق کیا جہاں عام چیزیں بھی غیر معمولی محسوس ہونے لگتی ہیں۔
مانو گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے پاکستان کی انڈی، پاپ اور ہپ ہاپ موسیقی میں اپنی منفرد شناخت بنا رہے ہیں۔ ان کے نمایاں کام میں ’’میلانکولک‘‘، ’’خواب‘‘، ’’کدھر؟‘‘ اور ’’سویٹو‘‘ شامل ہیں۔ کوک اسٹوڈیو سیزن 15 کے ایوارڈ یافتہ گانے ’’جھول‘‘ میں انورال خالد کے ساتھ ان کی شرکت کو بھی خاصی پذیرائی ملی، جبکہ ان کا البم ’’ٹھکانہ‘‘ عاصم اظہر اور طلحہ انجم سمیت مختلف فنکاروں کے اشتراک سے ان کے موسیقی کے سفر کو مزید وسعت دیتا ہے۔
زوہا وسیم کلاسیکی اور غزل گائیکی کے پس منظر کو جدید پاپ موسیقی کے ساتھ جوڑنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ لاہور کے الحمرا میں ملکہ ترنم نور جہاں کو خراجِ تحسین پیش کرنے والی پرفارمنسز سے توجہ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ’’مجبور‘‘ سمیت مختلف گانوں کے ذریعے ڈیجیٹل سامعین میں بھی اپنی جگہ بنائی۔
طلال قریشی پاکستان کی الیکٹرانک اور جدید پروڈیوسر پر مبنی موسیقی کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے کام میں آزاد الیکٹرانک موسیقی سے لے کر مرکزی دھارے کی پاپ موسیقی تک مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ کوک اسٹوڈیو سیزن 14 کے گانے ’’پیچھے ہٹ‘‘ کی پروڈکشن کے علاوہ ان کے نمایاں کام میں ’’آگ‘‘، ’’کرکٹ کھڈائیے‘‘ اور مکمل میوزک پروجیکٹ ’’ٹربو‘‘ شامل ہیں۔
’’شبنم‘‘ کی پروڈکشن طلال قریشی نے کی ہے، جبکہ مانو نے شریک پروڈیوسر کے طور پر کام کیا۔ گانے کے بول مانو اور زوہا وسیم نے لکھے، دھن مانو نے ترتیب دی اور موسیقی کی ارینجمنٹ مانو اور طلال قریشی نے مشترکہ طور پر کی۔ گانے کی مکسنگ طلال قریشی، ماسٹرنگ شان ٹالمن اور ریکارڈنگ ساؤنڈز گڈ اسٹوڈیوز میں کی گئی۔
کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کی چھ پیشکشوں پر مشتمل سیریز میں ’’شبنم‘‘ چوتھا گانا ہے۔ اس سے قبل ’’دل‘‘، ’’رنگین‘‘ اور ’’ماہیا‘‘ ریلیز کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید دو گانے آنے والے ہفتوں میں پیش کیے جائیں گے۔ ’’شبنم‘‘ اب کوک اسٹوڈیو کے آفیشل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے

0 Comments