بچوں کی پرورش کو ’سماجی فریضہ‘ قرار :عالمی ماہرین کا اے کے یو کانفرنس میں اعلان


0

نئی نسل کے مستقبل کے تحفظ اور تشکیل کے حوالے سے ایک اہم عالمی مکالمہ آج کراچی میں شروع ہوا جہاں آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ (IED) کے زیرِ اہتمام 13ویں بین الاقوامی کانفرنس “Raising Children in Our Times” کا افتتاح کیا گیا۔

مہمانِ خصوصی سید سردار علی شاہ، وزیر تعلیم و ثقافت سندھ نے بچوں کی درست پرورش کو ’’ہمارے دور کا بنیادی چیلنج‘‘ قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’مستقبل پارلیمانوں یا کارخانوں میں نہیں بنتا بلکہ اُن محفوظ، پرورش یافتہ اور روشن فضاؤں میں بنتا ہے جو ہم آج اپنے بچوں کے لیے تخلیق کرتے ہیں۔‘‘

یہ احساسِ ضرورت ڈاکٹر فرید پنجوانی، ڈین IED نے بھی دہرایااُنہوں نے کہا، ’’ہم اکثر بچوں کی پرورش کی ذمہ داری صرف والدین پر ڈال دیتے ہیں، جیسے یہ کوئی ذاتی یا انفرادی فریضہ ہو۔ اس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے  ہم اپنے بچوں کو کس دنیا میں پروان چڑھا رہے ہیں؟ میڈیاکارپوریشنز اور ریاست کی اس میں کیا ذمہ داری ہے؟ اُنہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کی یہ گفتگو اس خیال کو ازسرِ نو زندہ کرے گی کہ بچوں کی پرورش دراصل ایک سماجی عمل ہے۔‘‘

ابتدائی مکالموں میں اس ذمہ داری کے اخلاقی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی خصوصاً موجودہ عالمی چیلنجز جیسے عدم مساوات، ڈیجیٹل دباؤاور ماحولیاتی بے چینی کے تناظر میں۔ ڈاکٹر لن وولبرٹ، ایسوسی ایٹ پروفیسر، فری یونیورسٹی ایمسٹرڈیمنے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ’’جب انسان خود دنیا کے بیشتر مسائل کا سبب بن چکا ہے تو وہ کس طرح بہتر انسانوں کی پرورش کا دعویٰ کر سکتا ہے؟‘‘

پہلے دن کے سیشنز میں زمینی مسائل پر براہِ راست بات کی گئی۔ “Raising Resilient Learners in a Digital and Divided World” کے عنوان سے ایک پُراثر پینل ڈسکشن میں ہارون یاسین (سی ای او تعلیم آباد) اور برون وین میک گراتھ (گلوبل پروگرام مینیجر، آغا خان فاؤنڈیشن) نے تعلیم اور خاندانی نظام کے ذریعے بچوں میں لچک، ہمدردی، اور تنقیدی سوچپیدا کرنے کے عملی طریقوں پر گفتگو کی۔

اس کے بعد پینل “Beyond Survival: Shaping Safe and Supportive Spaces for the Modern Child” میں بچوں کے لیے محفوظ اور جامع ماحول کی ضرورت پر بات کی گئی، جس میں عمیر احمد،سی ای او NOWPDP))، معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمود مغل، ڈاکٹر نرگس اسد (انٹرم چیئر، ڈیپارٹمنٹ آف سائیکاٹری) اور ڈاکٹر فوزیہ پروین (ماحولیاتی سائنسدان، اے کے یو) نے شرکت کی۔

آگے بڑھتے ہوئے، کانفرنس کا محور فلسفیانہ سوال ’’کیوں ‘‘ سے عملی پہلو’’کیسے  ‘‘کی طرف منتقل ہوگا، جس کا مقصد عملی راہیں اور عملی منصوبہ بندی کا خاکہ تیار کرنا ہے۔ مباحثوں میں جدید دور کے بچپن کو تشکیل دینے والے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جن کا آغاز ابتدائی بچپن کی تعلیم اور نگہداشت کے جدید ماڈلز سے کیا جائے گا۔

مزید سیشنز میں معاشی تفاوت کی تلخ حقیقتوں پر بات کی جائے گی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور میڈیا کے دو دھاری اثرات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے تحفظ اور اخلاقی تربیت کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا جائے گا۔ بالآخر، کانفرنس کا مقصد شمولیت کی فوری ضرورت کو اجاگر کرنا اور ان بنیادی صلاحیتوں اور رویوں کو ازسرِ نو متعین کرنا ہے جو زندگی بھر سیکھنے اور تبدیلی کے مطابق ڈھلنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس موقع پر فن، انسانی علوم اور تخیل کے کلیدی کردار پر خصوصی زور دیا گیا


Like it? Share with your friends!

0
zeeshan

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *