اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم


0

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے گا، ہزاروں اساتذہ کو تربیت دی جائے گی، اور سندھ بھر میں خصوصی بچوں کی تعلیم میں دیرپا مثبت تبدیلی لائی جائے گی

پاکستان میں خصوصی بچوں کی تعلیم کے نظام کو نئی سمت دینے کے لیے حکومتِ سندھ نے محکمہ برائے بااختیار افرادِ معذوری (Department of Empowerment of Persons with Disabilities – DEPD) اور آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ (AKU-IED) کے درمیان پانچ سالہ شراکت داری کی منظوری دے دی ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت (MoU) پر آج وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں دستخط کیے گئے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہنے، جنہوں نے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی کہا کہ یہ “محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ سندھ کے ہر خصوصی بچے سے کیا گیا ایک پُرخلوص عہد ہے کہ ان کے خواب اہم ہیں، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے گا، اور ان کا مستقبل اب رکاوٹوں کا شکار نہیں رہے گا۔”

اس شراکت داری کے تحت اے کے یو-آئی ای ڈی میں جامع تعلیم اور خصوصی تعلیمی ضروریات (Inclusion and Special Educational Needs – SEN) یونٹ قائم کیا جائے گا، جو تربیت، تحقیق اور جدت کا مرکز ہوگا۔ اس یونٹ میں سینسری رومز، تھراپی اسپیسز اور خصوصی وسائل کے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے ذریعے آئندہ پانچ برسوں میں دو ہزار سے زائد اساتذہ کو تربیت دی جائے گی، جو بالواسطہ طور پر تقریباً پانچ لاکھ اسکول جانے والے بچوں تک مثبت اثرات پہنچائیں گے۔

اس منصوبے کا سب سے نمایاں پہلو تعلیمی افرادی قوت کی استعداد میں اضافہ ہے
اس منصوبے کا سب سے نمایاں پہلو تعلیمی افرادی قوت کی استعداد میں اضافہ ہے

یونیسیف کے مطابق پاکستان میں اندازاً  96 فیصد خصوصی بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ غربت، صنفی عدم مساوات اور مناسب سہولیات کی کمی کے باعث سندھ اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر سندھ میں 74 لاکھ بچے اسکول سے باہرہیں، جہاں معذوری تعلیم تک رسائی میں ایک بڑی اضافی رکاوٹ ہے۔

محکمہ برائے بااختیار افرادِ معذوری کے سیکریٹری طٰہٰ احمد فاروقی نے کہا “بہت عرصے تک خصوصی بچے ہمارے تعلیمی نظام میں نظر انداز ہوتے رہے ہیں۔ آج ہم سندھ کے ہر خاندان سے یہ وعدہ کر رہے ہیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل ہمارے لیے اہم ہے۔”

اس منصوبے کا سب سے نمایاں پہلو تعلیمی افرادی قوت کی استعداد میں اضافہ ہے۔ اے کے یو-آئی ای ڈی دو ہزار سے زائد اساتذہ کے لیے ماڈیولر کورسز، ٹریننگ آف ٹرینرز (ToT) پروگرامز اور سرٹیفکیشن کے مواقع فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ بیچلر آف ایجوکیشن پروگرام میں جامع تعلیم کی خصوصی مہارت (Specialisation) بھی متعارف کرائی جائے گی، جس کے طلبہ کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔

تربیت کے ساتھ ساتھ یہ اشتراک صوبے بھر میں تحقیق اور آگاہی کے ایک جامع پروگرام کا بھی آغاز کرے گا، جس میں بنیادی جائزے (Baseline Assessments)، منصوبے کے نفاذ کا جائزہ، اور سالانہ پالیسی کمیشن شامل ہوں گے تاکہ حکومتی فیصلوں کو شواہد کی بنیاد پر بہتر بنایا جا سکے۔ ہر دو سال بعد خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) سے متعلق کانفرنسیں اور پالیسی سیمینار منعقد کیے جائیں گے، جبکہ عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے ملٹی میڈیا مواد، رہنما کتابچے (Toolkits) اور کمیونٹی آگاہی پروگرام ترتیب دیے جائیں گے تاکہ خصوصی افراد سے متعلق معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔

اے کے یو-آئی ای ڈی کے ڈین پروفیسر فرید پنجوانی نے کہا

اے کے یو-آئی ای ڈی کے ڈین پروفیسر فرید پنجوانی نے کہا”یہ صرف ایک ادارہ جاتی کامیابی نہیں بلکہ سندھ کے ہر اُس بچے سے کیا گیا وعدہ ہے جو ایک ایسے تعلیمی نظام کا منتظر تھا جو اسے دیکھے، اس کی آواز سنے اور اسے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے قابل بنائے۔”

اس شراکت داری کے تحت حکومتِ سندھ مالی معاونت (گرانٹ) فراہم کرے گی، جبکہ اے کے یو-آئی ای ڈی اپنی تعلیمی مہارت، تجربہ اور ادارہ جاتی وسائل مہیا کرے گا۔ SEN یونٹ ایک جامع اسٹریٹجک روڈ میپ بھی تیار کرے گا تاکہ اس منصوبے کے اثرات پانچ سالہ مدت کے بعد بھی برقرار رہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے کہا”کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ آیا وہ اُن بچوں تک پہنچتا ہے جو طویل عرصے سے تعلیمی مواقع سے محروم رہے ہیں۔ اس شراکت داری کے ذریعے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو خصوصی بچوں کی ضروریات کے مطابق تعلیم دینے کے قابل بنایا جائے گا، تاکہ ہر بچے کو اپنی مکمل صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا مساوی موقع مل سکے۔”

اس شراکت داری کا مقصد ایک ایسے سندھ کی تشکیل ہے جہاں ہر بچہ، اپنی جسمانی یا ذہنی صلاحیت سے قطع نظر، اپنے کلاس روم میں قبولیت، سمجھ بوجھ اور بااختیار ہونے کا احساس حاصل کر سکے، اور اب یہ خواب حقیقت کے قریب آ چکا ہے۔


Like it? Share with your friends!

0
zeeshan

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *