آئی سی سی ڈی نے کامیابی کے ساتھ بی او ای ایشیا 2025 کا انعقاد کیا، جس میں اے پی اے سی اور وسطی ایشیائی ممالک کے شرکاء نے حصہ لیا


1

اپنے اسٹریٹجک وژن کے حصے کے طور پر جو ایشیائی کاروباری منظرنامے کو آگے بڑھانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری کلچر اور متنوع اقتصادی شعبوں میں مواقع کو وسعت دینے کے لیے بنایا گیا ہے، آئی سی سی ڈی نے بیسٹ آف انٹرپرینیورشپ سیریز ان ایشیا (BOE Asia 2025) کے دوسرے ایڈیشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ تقریب 24 ستمبر 2025 کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 26ویں آئی ٹی سی این ایشیا کے ساتھ منعقد ہوئی۔

اس ایونٹ میں اعلیٰ پالیسی سازوں، بزنس لیڈرز اور انوویٹرز کو ایک جگہ اکٹھا کیا گیا تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کاروبار کو نئی شکل دے رہی ہے اور ایشیا بھر میں اقتصادی ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔ ان مباحثوں میں خاص طور پر پاکستان میں ڈیجیٹل رسائی اور اختراع میں موجود خلا کو پُر کرنے کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ عالمی معیشت میں وسیع تر شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مفید نیٹ ورکنگ مواقع، معلوماتی پینل مباحثوں اور دلچسپ ورکشاپس کے ذریعے، بی او ای ایشیا 2025 نے یہ عملی بصیرت فراہم کی کہ کس طرح ٹیکنالوجی معاشی بحالی کے لیے خاص طور پر ٹیک سیکٹر کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئےایک محرک کے طور پر کام کر سکتی ہے۔

بی او ای ایشیا 2025 میں اپنے افتتاحی کلمات کے دوران آئی سی سی ڈی کے سیکرٹری جنرل جناب یوسف خلاوی نے کہا”پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور بی او ای ایشیا میں ہم پورے خطے کے ممتاز اذہان کو اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ اس کے کاروباری منظرنامے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ٹیکنالوجی تک رسائی کو ترجیح دے کر چاہے وہ ہارڈویئر ہو، سافٹ ویئر ہو یا ہماری نوجوان نسل کے لیے ضروری تعلیمی اوزار ہوں ہم پوری انسانیت کے لیے ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔”

اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر جناب ثاقب فیاض مگوں نے کہا”ہمیں اپنی معاشرت میں کاروباری سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،ایسے طریقے اختیار کرتے ہوئے جو پیشہ ور افراد اور طلبہ کو تخلیقی، اختراعی اور وژنری رہنماؤں میں تبدیل کر سکیں، جو تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں کاروبار کی اہمیت کو پہچانتے ہوں۔”

مزید برآں البرکہ بینک پاکستان کے سی ای او جناب محمد عاطف حنیف نے کہا”پاکستان اپنی 25 کروڑ آبادی کے ساتھ اسٹارٹ اپس کے لیے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے تاکہ موجودہ خلا کو پُر کیا جا سکے، خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔ اس کی منفرد نوجوان آبادی، جس میں 60 فیصد لوگ 30 سال سے کم عمر کے ہیں ایک قیمتی فائدہ فراہم کرتی ہے جو ملک کو علاقائی تعاون اور ترقی کے لیے بہترین پوزیشن میں لاتا ہے۔”

تقریب کے دوران، آئی سی سی ڈی نے “صالح کامل فار سسٹین ایبل انٹرپرینیورشپ اینڈ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن” (SKSEED) متعارف کرایا جس کا مقصد مسلم کاروباری افراد کو اختراع کرنے، وسعت دینے اور پائیدار عالمی معاشی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔

بی او ای ایشیا، بیسٹ آف انٹرپرینیورشپ سیریز کا ایک بنیادی ستون ہے جو خطے میں جدت اور ترقی کی ایک علامت بن چکا ہے۔ یہ اقدام آئی سی سی ڈی کے اس عزم کو اجاگر کرتا ہے کہ وہ او آئی سی کے رکن ممالک میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے وژنری رہنماؤں اور ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کو متحد کر کے جامع معاشی تبدیلی کو آگے بڑھائے۔


Like it? Share with your friends!

1
zeeshan

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *