کیس ختم کرنے کے بدلے 20 کروڑ کی پیشکش ہے۔ عظمی خان

اداکارہ عظمیٰ خان ہراساں اور تشدد کیس،وقت گزرنے نے کے ساتھ ہی دلچسپ موڑ اختیار کرتا جارہا ہے ۔ معروف ٹی وی ہوسٹ وقار ذکاء کے ساتھ ایک لائیو سیشن کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے اس معاملے کے حوالے سے کئی نئے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک ریاض کی بیٹی نے اس پورے معاملے کو بعد میں رفع دفع کرنے کیلئے انہیں پیسے اور پراپرٹیز کی آفر دی ہے۔

اس لائیو سیشن کے دوران عظمیٰ خان کے وکیل حسن نیازی بھی موجود تھے۔ اس کیس کے حوالے سے ہوسٹ کی جانب سے دونوں مہمانوں کے لئے کافی تلخ سوالات پوچھے گئے۔ جن کے جوابات دونوں مہمانوں کی طرف سے کافی افہام وتفہیم سے دیے۔

عظمیٰ خان کے وکیل اور وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسن نیازی نے اس موقع پر ایک جگہ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس پورے معاملے کے بعد عظمیٰ خان کو 10 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی کہ وہ اس معاملے کو ختم کردیں بعدازاں ایف آئی آر کے اندارج کے بعد اس آفر کو دوگنا کردیا گیا تھا۔ جس کو عظمیٰ خان نے رد کردیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو لیکر عظمیٰ کا نام غلط طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے، یہ سب کچھ کردار کشی زمرے میں آتا ہے اور کچھ لوگ یہ کررہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عظمیٰ خان کا اس معاملے کے دوران ذاتی فون نمبر لیک کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد سے لیکر اب تک عظمیٰ خان ہزاروں کے قریب غیر متعلقہ میسجز وصول کرچکی ہیں اور کچھ میسجز میں اس قدر گندی زبان اور گندے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ ان کو بتایا بھی نہیں جاسکتا ہے۔

اس پورے معاملے میں حسن نیازی نے پنجاب پولیس کے کردار کو انتہائی مایوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس ناصرف نااہل ہے بلکہ اس پورے معاملے کے دوران پنجاب پولیس ملک ریاض کے زیر اثر اور زیر دباؤ میں رہی اور کچھ کام نہیں کیا۔

جبکہ پروگرام کے ہوسٹ وقار ذکاء کی جانب سے بھی اس بات کی تائید کی گئی کہ ان کو بھی اس پورے میں میں عظمیٰ خان کے حق میں نہ بولنے کے لئے پیسوں کی آفر کی گئی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے عنمبر ملک کے خلاف توئیٹر پر #اریسٹ عنمبر ملک کے نام کا ٹرینڈ شروع کیا، جو گزشتہ روز نمبر ون ٹرینڈ بن کر سامنے آیا۔


یاد رہے اس حوالے سے سوشل میڈیا میں رپورٹ زیر گردش ہیں کہ ملک ریاض کی بیٹیاں عنمبر ملک اور پشمینہ ملک سوشل میڈیا پر بے انتہاء تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے باعث ملک چھوڑ کر جاچکی ہیں۔ اس معاملے پر حکومت اور میڈیا کی پراسرار خاموشی پر عام عوام میں خوب تنقید پائی جاتی ہے اور وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ملک میں بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں اور ان کے لئے کوئی سزا کا معاملہ نہیں ہے.

جبکہ یاد دہے عظمیٰ خان اپنی گزشتہ پریس کانفرنس میں اس بات کو بلکل واضح کرچکی ہیں کہ ملک ریاض کا اس پورے معاملے میں براہ راست کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وہ ان کے خلاف بھی نہیں ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago