روالپنڈی: نوکری کے انٹرویو کا جھانسہ، خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا

ایک اور دن ظلم اور بربریت کا ایک اور واقعہ، روالپنڈی تھانہ ریس کورس کے علاقے میں شادی شدہ خاتون کو ملازمت کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ مبینہ طور پر متاثرہ خاتون دو بچوں کی ماں ہے۔

ٹاؤن شپ لاہور کی رہائشی خاتون نے آصف نامی شخص پر ملازمت کا جھانسہ دے کر زیادتی کرنے پر ایف آئی آر درج کروادی ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مدعیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ٹھوکر نیاز بیگ لاہور پر کیش اینڈ کیری اسٹور گئی جہاں پر آصف نامی شخص پراپرٹی کی تشہیر کے پمفلٹ تقسیم کر رہا تھا۔ میں نے پمفلٹ لے کر اپنے شوہر کو دیا جنہوں نے آصف کو فون کیا تو اس نے کہا کہ آپ لوگ راولپنڈی آجائیں تو نوکری دلوادوں گا۔

Image Source: File

خاتون کے مطابق وہ اپنے شوہر اور 2 بچوں کے ہمراہ راولپنڈی چلی گئی، وہاں پہنچ کر آصف کو فون کیا تو اس نے ہمیں صدر بلوایا، وہاں آصف نے مجھ سے کہا کہ انڑویو کے لیے جانا ہے لہذا بچوں کو شوہر کے پاس چھوڑ دو۔ وہاں سے ملزم مجھے پشاور روڈ پر واقع ہوٹل کی لابی میں لے گیا۔

لابی میں کچھ دیر انتظار کے بعد انہیں انٹرویو کے لیے کمرے میں بلایا گیا، چنانچہ جب وہ کمرے میں گئی تو آصف نے اس سے زبردستی کی، اس کے کپڑے پھاڑ دیے اور مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بناکر فرار ہوگیا۔

Image Source: File

متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے شور کرنے پر بھی کوئی مدد کے لیے نہیں آیا، لہذا انہوں نے ہوٹل مینیجر کو اس واقعے سے آگاہ کیا جس نے خاوند اور پولیس کو اطلاع دی۔

جس پر ریس کورس پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ اس حوالے سے پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم کو ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پچھلے سال اسی طرح کے ایک واقعے پیش آیا تھا ، اسلام آباد میں رہنے والی ایک لڑکی ، اپنے دوست کی درخواست پر ، کراچی کی ایک کمپنی میں نوکری کی تلاش میں گئی تھی ، لیکن اسے بندوق کی نوک پر نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے باوجود کارروائی کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ شخص با اثر نکلا تھا۔

مزید پڑھیں: روالپنڈی میں اجتماعی زیادتی کا ہولناک واقعہ، مرکزی ملزم گرفتار

پاکستان میں عصمت دری کے قوانین اور جنسی حملوں کو روکنے کے لیے سزا کی شدت کے بارے میں بحث جاری ہے۔ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے تناظر میں ، وزیر اعظم عمران خان نے نومبر 2020 میں ، جنسی جرائم میں ملوث مجرموں کے کیمیائی کاسٹریشن کے قانون کو اصولی طور پر منظوری دی تھی۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل لاہور لاہور کے علاقے ایل ڈی اے میں ایوینیو کے مقام پر خاتون اور ان کی کم عمر بیٹی کو رکشہ ڈرائیور نے ساتھی کے ساتھ مل کر بندوق کی نوک پر زیادتی کا نشانہ بنا دیا تھا۔ خاتون بیٹی ہمراہ بذریعہ بس وہاڑی سے لاہور پہنچی تھیں اور انہوں نے بہن کے گھر جانے کے لئے رکشہ کیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago