وراثت میں حصہ مانگنے والی بہن پر سگے بھائیوں کا بدترین تشدد

ویڈیو سامنے آنے کے بعد جہاں صارفین کی اکثریت نے تشدد کے عمل کی مذمت کی وہیں اس کے پس پردہ موجود ذہنیت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وجہ صرف اتنی ہے کہ بہن نے اپنے مذہبی اور قانونی حقوق کے مطابق آبائی گھر میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا۔ جس پر سگے بھاہیوں نے بے دردی سے بہن کو مارا پیٹا۔

تفصیلات کے مطابق وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے دو افراد ایک رہائشی کمرے میں ہتھوڑے اور ہیلمٹ کے ذریعے خاتون پر تشدد کر رہے ہیں۔ اس دوران وہاں موجود والدہ انہیں روکنے کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں بھی دھکا دے کر گرا دیا جاتا ہے۔

تشدد کا نشانہ بنے والی خاتون کے بیٹے طلحہ نے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے مدد کی اپیل کی تھی اور لکھا تھا کہِ ، “آج جب میں اور میرے بھائی گھر پر نہیں تھے تو میرے تین ماموں نے میری والدہ پر حملہ کیا۔ انہوں نے میری ماں اور دادی کو بری طرح سے مارا پیٹا۔”

بھائیوں کی تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون ریٹائرڈ سینیئر ٹی وی انجینیئر بدر بی بی کے بیٹے محمد ارسلان نے کہا کہ ’جائیداد میں حق کے حوالے سے ان کی والدہ کا اپنے بھائیوں کے ساتھ ہائی کورٹ میں کیس چل رہا ہے تاہم اس کے باوجود ان کے بھائی تشدد سے باز نہ آئے اور ان کو وقتا فوقتاً ٹارچر کرتے رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ان کی والدہ شدید تکلیف سے گزر رہی ہیں، وہ صرف اس گھر میں اپنا حق مانگ رہی ہیں جو انہوں نے والد کے ساتھ مل کر بنایا، اس جائیداد میں نہیں جو ان کے نانا کا ہے۔‘ محمد ارسلان نے بتایا کہ پولیس نے آیف آئی آر بھی رات گئے درج کی۔

دوسری جانب ڈان کی خبر کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے 3 بھائیوں کو اپنی والدہ اور بہن پر تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری پیغام کت مطابق پشاور کے علاقے امین کالونی سے آفتاب، ارشد اور عبدالحنان کے بیٹے بیٹے کو گرفتار کرلیا ہے۔

بعدازاں پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کورٹ کی دفعہ 354،506،337 (اے) اور 34 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس موقع پر متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے اہلخانہ کے مابین جائیداد کے معاملے کو لیکر تنازعہ تھا، چنانچہ ان کے بھائیوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث انہیں کئی چونٹیں آئیں جبکہ انہوں نے بھائیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ انہیں قتل کی بھی دھمکیاں دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھائی نگ پیسوں جی خاطر بہن کو 4 سال تک گھر میں قید رکھا

پولیس کی جانب جاری ٹوئٹ میں مزید بتایا گیا کہ جب گرفتار ملزمان سے اس معاملے پر تفتیش کی گئی، تو ملزمان نے اس بات کا اقرار کیا کہ انہوں نے اپنی بہن کو والد کی جائیداد میں حصہ مانگنے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسلام میں خواتین کے حقوق کو بہت اہمیت دی گی ہے۔ تاہم ، جب ان کو انکے حقوق دینے کی بات آتی ہے تو ، بعض اوقات مرد حضرات ان کے لئے کافی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ ایسا ہی اہک واقعہ حافظ آباد کا تھا جس میں خود غرض بھائیوں نے حصہ دینے سے بچنے کے لئے 20 سال تک اپنی بہن کو بعد میں رکھا تھا تاکہ وہ جائیداد یا وراثت میں اپنے حصے کا مطالبہ نہ کرسکے۔


افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے، ایسا واقعہ ہمارے ملک میں کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے، اس ہی طرز کا ایک۔واقعہ گزشتہ برس بھی دیکھا گیا تھا، جب سوشل میڈیا پر زوبیا میر نامی لڑکی کی جانب سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی، جس میں انہوں نے دیکھایا تھا کہ کس طرح ان کا بھائی ارسلان میر اپنی والدہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ جبکہ اس دوران ارسلان کی اہلیہ اپنے شوہر کو والدہ پر مزید تشدد پر اکساتی ہے اور بیٹا تشدد کو جاری رکھتا ہے۔ اس ویڈیو نے گویا پوری قوم کو جھنجوڑ کے رکھ دیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago