پاکستان میں اومی کرون کے مزید کیسز رپورٹ

کورونا کا نیا ویرینٹ اومی کرون انتہائی خطرناک ہے اور یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کورونا کی اس نئی قسم کے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا اور جنوری کا آغاز ہوتے ہی کورونا کے کیسز کی میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایک ہی دن میں 700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ پچھلے دو ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان کیسز کے پیش نظر وفاقی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی پانچویں لہر کا آغاز ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 708 کیسز سامنے آئے ہیں، مزید 2 افراد اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے، اس کے مزید 144 مریض شفایاب ہو گئے، جبکہ مثبت کیسز کی شرح 1 اعشاریہ 55 فیصد پر آ گئی۔ پاکستان بھر میں اب تک 28 ہزار 943 کورونا وائرس کے مریض انتقال کر چکے ہیں جبکہ اس موذی وائرس کے کُل مریضوں کی تعداد 12 لاکھ 97 ہزار 235 ہو چکی ہے۔ این سی او سی کے مطابق، اب تک رپورٹ ہونے والے ایکٹو کیسز کی تعداد 11,124 ہے۔

اس حوالے سے نیشنل کمانڈ ایںڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب ساٰئٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ واضح ثبوت سامنے آچکا ہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے کورونا کی جس نئی لہر کا خدشہ تھا، وہ شروع ہو رہی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں اسد عمر نے کہا کہ جینوم سیکوئنسنگ سے واضح ہے کہ اومی کرون کا زیادہ تر پھیلاؤ کراچی میں ہے۔ شہری کورونا کی روک تھام کیلئے ماسک ضرور پہنیں کیونکہ ماسک ہی آپ کی بہترین حفاظت کا ذریعہ ہے۔ این سی او سی کے مطابق ملک کی کُل آبادی کے 32 فیصد افراد کو ویکسین کی دو خوراکیں لگ چکی ہے۔

Image Source: Twitter

علاوہ ازیں ،این سی او سی نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ ویکسی نیشن کے مقررہ اہداف جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ خیال رہے کہ حکومت نے 30 سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کے لیے بوسٹر ڈوز کی اجازت دیدی ہے جبکہ 12 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو ان کے اسکولوں میں حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا آپ کو معلوم ہے کون سا فیس ماسک کس کام آتا ہے؟

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں بلاک 7 میں ایک درجن افراد میں اومی کرون ویرینٹ کی تشخیص ہوئی جس کے بعد علاقے میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔ کراچی میں اومی کرون جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے جس کے سبب شہر قائد میں کورونا مثبت کیسزکی شرح 7 فیصد ہوچکی ہے۔ دوسری جانب اومی کرون کے بارے میں ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کے مطالعات ابھی بھی جاری ہیں اور وہ ابھی بھی مزید معلومات فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں اور اس خطرناک ویرینٹ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago