اوکاڑہ میں اوباش نوجوانوں نے بکری کا گینگ ریپ کر ڈالا

اوکاڑہ میں جہالت اور درندگی کا ہیبت ناک واقعہ 5 نوجوانوں نے بکری کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق ، اوکاڑہ میں ستگھرا کی حدود میں ایک بکری کو بےدردی سے زیادتی کا نشانہ بنا گیا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔ بکری کے مالک نے مجرموں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں مالک اظہر حسین نے موقف اپنایا کہ ملزمان نے بے زبان جانور پر تشدد کے ساتھ ساتھ بدفعلی کر کے مار دیا۔

Image Source: Twitter

بکری کے مالک نے بتایا کہ ملزمان بکری کو اس کے گھر کے سامنے سے کھول کر لے گئے اور بکری کا منہ باندھ کر بدفعلی کرنے کے ساتھ تشدد بھی کرتے رہے۔ ملزمان کے تشدد اور بدفعلی کی وجہ سے بکری مر گئی۔ ملزمان بکری کو مردہ حالت میں چھوڑ کر دیوار پھلانگ کر فرار ہوگئے۔ بعد ازاں ،بکری کے مالک نے وینٹری ڈاکٹر سے متاثرہ بکری کا میڈیکل بھی کروایا۔ میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بکری کو مارنے سے پہلے اس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ یہ بکری 60 ہزار روپے کی مالیت کی تھی۔دریں اثناء ، مقامی لوگوں نے بھی گھناؤنا جرم کرنے کے بعد ملزمان کو فرار ہوتے دیکھا اور انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جرم کے مرتکب مجرموں کو کڑی سزا دی جائے۔

ڈی پی او فیصل شہزاد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ستگھرا کے ایس ایچ او جاوید خان کو ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔ ایس ایچ او جاوید خان نے بتایا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

Image Source: Twitter

ملک بھر کے مختلف شہروں میں زیادتی کے واقعات آئے روز رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ روزانہ کئی خواتین ،بچیاں اور بچے دردندگی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ابھی تک صائمہ ، قرۃ العین ، نور مقدم کے مجرمان کو سزائیں نہیں مل سکیں ، دوسری طرف وشاء ابوبکر اپنے ہی شوہر سے تحفظ کے لئے لوگوں سے مدد طلب کر رہی ہیں۔ افسوس کہ ظلم وزیادتی کے ان واقعات سے اب بے زبان جانور بھی محفوظ نہیں رہے اور خواتین کی طرح ان کی عزتیں بھی محفوظ نہیں ۔

مزید پڑھیں: نقلی چوڑیل کا بہروپیہ علاقے کی بکریاں چراتا تھا

خیال رہے اس سے قبل ایک واقعہ بھارت میں پیش آیا تھا جہاں 8 افراد نے حاملہ بکری کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد بکری جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ بھارت کے شہر ہریانہ کے ایک گاؤں کے رہائشی شخص نے بتایا کہ میں نے شراب کے نشے میں دھُت ہو کر بکری کو ہراساں کرتے آٹھ افراد کو دیکھا تو شور مچا دیا۔ جس کے آٹھ گھنٹے بعد وہ دوبارہ آئے ، میری بکری کو اُٹھا کر لے گئے اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

Story Courtesy: Express News

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago