پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں اس لئے پانی کا صاف ہونا بہت زیادہ ضروری ہے اور اس کے لئے یہ جاننا بہت اہم ہے کہ ہم جو پانی پی رہے ہیں وہ واقعی جراثیم سے پاک ہے یا نہیں ؟ کیونکہ جراثیم شدہ پانی پینے کی وجہ سے شہریوں کو بہت ساری بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ،ان بیماریوں میں ہیپاٹائٹس ،گردوں اور معدے کی متعدد تکالیف شامل ہیں۔ لہٰذا صحت مند معاشرے کے لئے صاف ستھرا پانی بے حد ضروری ہے۔
مہران یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی جامشورہ کے دو نوجوان طلبہ نے مل کر اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے۔ ان طلبہ نے پانی میں موجود جراثیم کے شناخت کرنے کے لئے ایک اہم ایجاد کی ہے اور ایک ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جس کی مدد سے پانی میں موجود جراثیم کی شناخت منٹوں میں ممکن ہوسکے گی اور عوام کو جراثیم سے پاک پانی دستیاب ہوسکے گا۔
نوجوان طلبہ محمد حمزہ اور محمد نامدار نے تھری ڈی پرنٹ کی مدد سے پورٹیبل مائیکرو اسکوپ بنائی ہے، جس سے حاصل ہونے والے نتائج 80 فیصد تک درست ملے۔نوجوان طالب علموں کا کہنا ہے کہ پورٹیبل مائیکرو اسکوپ مارکیٹ میں 2 ہزار میں روپے میں دستیاب ہوگی تاہم ابھی یہ مارکیٹ میں موجود نہیں ہے۔ان طلبہ کی اس بہترین ایجاد کی مدد سے سندھ میں جراثیم شدہ پانی سے نجات پائی جاسکے گی۔ خیال رہے اندرون میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور اگر پانی موجود بھی ہے تو وہ جراثیم سے بھرپور ہے جس کی وجہ سے شہری خطرناک مہلک امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔
بلاشبہ وقت کے ساتھ ساتھ سائنس بھی دن بہ دن ترقی کررہی ہے، اس شعبے میں نت نئی تحقیق کے ذریعے انسانی زندگی کو آسان بنانےکے لئے حیرت انگیز ایجادات کی جارہی ہیں۔ فخر کی بات یہ ہے کہ ان سائنسی تحقیقات میں مغربی ماہرین کی طرح پاکستانی بھی کسی سے پیچھے نہیں اور وہ اپنے بل بوتے پر تحقیق کرکے دنیا کو متاثر کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اگر حکومت ان ذہین نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرے تو کوئی شک نہیں کہ یہ اپنی ایجادات سے مغربی ماہرین کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے۔
حالیہ دنوں میں بھی خیبرپختونخوا کے ایک نوجوان ڈاکٹر طلحہ درانی نے کارنامہ سرانجام دیا ہے ، انہوں نے ملک میں شوگر کے مریضوں کی سوئی سے جان چھوڑوانے کے لئے انسولین پر مبنی پیچز تیار کرلئے ہیں۔ انسولین پر مبنی ان پیچز کی تیاری کے بعد شوگر کے مریضوں کو انسولین کے ٹیکے نہیں لگوانے پڑیں گے اور اس کی بجائے وہ یہ انسولین پیچز جلد پر چپکاکر اپنی صحت کا خیال رکھ سکیں گے۔ ان انسولین پیچز کے تمام لیب ٹیسٹ کامیاب ہوچکے ہیں جبکہ لندن سے پیٹنٹ کے حصول پر کام ہورہا ہے۔ اس نئی دریافت نے عالمی سرمایہ کاروں کی بھی توجہ حاصل کرلی ہے۔
مزید پڑھیں: ذیابطیس کے مریضوں کیلئے خوشخبری، جلد شوگر فری آم دستیاب ہونگے
ایک اندازے کے مطابق ایک انسولین پیچ کی قیمت 50 روپے کے لگ بھگ ہوگی۔ ان کی تیاری میں برطانوی ڈاکٹرز پروفیسر ڈینس دورومس، نیورولوجسٹ ڈاکٹر میاں ایاز الحق اور میکٹرونکس انجنئیر ڈاکٹر انعم عابد نے بھی حصہ لیا۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…