محفوظ طبی نگہداشت کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، ماہرین

کراچی ستمبر 17:  ایس آئی یو ٹی مریم بشیر داود  چلڈرن  اسپتال میں ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے 2025 نہایت جوش و خروش سے منایا گیا، جہاں بچوں کی محفوظ دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور  آگاہی کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ماہرینِ طب نے زور دیا کہ مریضوں کی حفاظت اور بہتر علاج کے لیے والدین، معالجین اور معاشرے کو اجتماعی طور پر آگے آنا ہوگا۔واضح رہے کہ ایس آئی یو ٹی میں مریضوں کوتمام طبی سہولیات ، بلا تفریق  مفت  فراہم کی جاتی ہیں۔

اس سال کا موضوع ’’ہر نوزائیدہ اور ہر بچے کے لیے محفوظ نگہداشت‘‘ رکھا گیا، جس کے تحت ماہرین نے واضح کیا کہ بالخصوص ایسے بچے جو پیدائشی یورولوجی یا قلبی امراض میں مبتلا ہوں، وہ زیادہ خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ مزید برآں، مقررین نے کہا کہ مریضوں کی حفاظت محض ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے، جو  معیارِ صحت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

تقریب میں گردہ اور دل کے امراض میں مبتلا  بچوں اوران کے  والدین کے لیے آگاہی پر مبنی دلچسپ سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ جس میں ، ڈاکٹروں، والدین اور تیمارداروں کی حقیقی کہانیاں  پیش کی گئیں، جنہوں نے واضح کیا کہ کس طرح روزمرہ زندگی میں کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے اقدامات، چاہے وہ علاج کے دوران ہوں یا گھر کی دیکھ بھال میں، بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں اور قیمتی جانیں بچا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں، ماہرین نے توجہ دلائی کہ بچوں اور نوزائیدہ مریضوں کی حفاظت کو مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ پانچ برس سے کم عمر بچوں کی اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔ چنانچہ، انہوں نے زور دیا کہ محفوظ زچگی، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت، دواؤں کا درست استعمال، انفیکشن سے بچاؤ، حفاظتی ٹیکوں کا بروقت انتظام، درست تشخیص ، اچھی خوراک اور صحت کی بحالی  جیسے شعبوں میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بقا اور نگہداشت کو تیز کرنے کے لیے آئی جی ایچ ڈی نیشنل سیمینار کا انعقاد
تاہم، ماہرین نے یہ بھی کہا کہ والدین اور معالجین کی شراکت داری کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ یوں، اجتماعی کوششوں سے ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔  اس موقع پر بچوں، والدین، معالجین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے یہ تقریب ایک مؤثر اور یادگار دن ثابت ہوئی۔

urdu-admin

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

6 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago