پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بقا اور نگہداشت کو تیز کرنے کے لیے آئی جی ایچ ڈی نیشنل سیمینار کا انعقاد

کراچی/اسلام آباد :پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کا بوجھ ناقابل قبول حد تک زیادہ ہے ہر سال 1000 زندہ پیدائشوں میں سے 40 بچے جان گنوا بیٹھتے ہیں جو زیادہ تر قابلِ روک تھام وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے، آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ (IGHD) نے پالیسی سازوں، معالجین، محققین اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک نیشنل سیمینار میں متحد کیا جس کا موضوع”پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بقا اور نگہداشت کو تیز کرنا“تھا ۔

سیمینار نے نوزائیدہ بچوں کے لیے بنیادی خدمات کی دستیابی، معیار اور مساوی رسائی میں موجود مستقل خلا کو اجاگر کیا اور عملی، شواہد پر مبنی اقدامات کو ہم آہنگ کیا تاکہ پورے ملک میں نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ اس میں ضلعی سطح پر حل تلاش کرنے، ایڈوانسڈ سپورٹ یعنی لیول ٹو نگہداشت کو مضبوط کرنے اور صوبوں اور خطوں میں ثابت شدہ طریقوں کو تیزی سے وسعت دینے پر زور دیا گیا۔

 ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ، بانی ڈائریکٹر (آئی جی ایچ ڈی) نے کہا ”صوبوں اور اضلاع میں نوزائیدہ نگہداشت میں فرق کو کم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔سادہ اور ثابت شدہ طریقے جیسے کہ نوزائیدہ بچوں کو سانس لینے میں مدد دینا، ماں کے دودھ کی ترغیب دینا  اور جلد سے جلد کا رابطہ کروانا بے شمار نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچا سکتے ہیں اور ماں کی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ “

مہمانِ خصوصی پروفیسر عائشہ عصانی مجید، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، وفاقی وزارتِ صحت نے نوزائیدہ نگہداشت کو ترجیح دینے اور سرکاری پلیٹ فارمز پر اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے ایک نیشنل ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو نیشنل امیونائزیشن مینجمنٹ سسٹم میں ترجیح قرار دیا گیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ اس مقصد کو آگے بڑھائیں۔

 پروفیسر مجید نے وضاحت کی کہ”  ڈیٹا اور ایک دوسرے سے سیکھ کر ہم نوزائیدہ بچوں کی صحت کے نتائج میں بامعنی پیش رفت کر سکتے ہیں۔ایسے سیمینار تحقیق کو پالیسی مکالمے سے جوڑنے کا قیمتی موقع فراہم کرتے ہیں تاکہ صوبے اور ادارے یہ غور کر سکیں کہ ان کے تناظر میں کون سے طریقے سب سے زیادہ عملی اور مؤثر ہیں۔ “

 ڈاکٹر شبینہ عارف، پروفیسر پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ، آغا خان یونیورسٹی نے کہا ”جو ضرورت ہے وہ ہے مسلسل نفاذ، معیار کی یقین دہانی اور جوابدہی تاکہ ہر ماں اور نوزائیدہ بچے کو بروقت اور معیاری نگہداشت فراہم کی جا سکے۔ اس تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی علم اور آلات موجود ہیں جو زیادہ تر نوزائیدہ اموات کو روک سکتے ہیں۔ “

urdu-admin

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

5 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago