پاکستانی ڈاکٹرز کا بڑا کارنامہ، بچے کے کٹے ہوئے ہاتھ واپس جوڑ دیئے

پاکستانی ڈاکٹرز نے دونوں ہاتھوں سے محروم ہوجانے والے ایک پانچ سالہ کمسن بچے کو زندگی بھر کی معذوری سے بچالیا اور اس کے دونوں ہاتھ واپس جوڑ کر نئی زندگی دیدی۔ یہ پاکستان کی طبی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کسی کے کٹنے والے دونوں ہاتھ کامیابی کے ساتھ جوڑے گئے ہیں بلاشبہ یہ انتہائی مشکل اور طویل سرجری تھی جسے ڈاکٹروں نے باخوبی مکمل کیا ہے۔

تفصلات کے مطابق پاکستانی ڈاکٹرز نے سرجری کی دنیا میں یہ حیرت انگیز کارنامہ 12 گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد انجام دیا اور بچے کے کٹے ہوئے دونوں ہاتھ واپس جوڑ دیئے ہیں۔ پنجاب کے علاقے دیپالپور کے 5 سالہ بچے کاشف کے دونوں ہاتھ ایک ماہ قبل چارہ کاٹنے والی مشین میں آکر کٹ گئے تھے۔ بچے کو پہلے دیپالپور میں ہی بیسک ہیلتھ یونٹ لے جایا گیا جہاں سے ڈاکٹرز نے اسے اوکاڑہ ریفر کیا گیا، بچے کو وہاں سے لاہور کے چلڈرن اسپتال لایا گیا جہاں سینئرپلاسٹک سرجن ڈاکٹر محمد اسلم راؤ نےاپنی ٹیم ڈاکٹر وسیم ہمایوں ، ڈاکٹر سلمان اور ڈاکٹر فرحان گوہر کے ہمراہ بچے کا 12 گھنٹے کا طویل آپریشن کیا اور بچے کے کٹے ہوئے دونوں ہاتھ دوبارہ جوڑ دیئے۔

Image Source: Facebook

چلڈرن اسپتال میں ڈاکٹر اسلم راؤ کی سربراہی میں پلاسٹک سرجنز نے 12 گھنٹے طویل سرجری کی۔ پلاسٹک سرجن ڈاکٹر اسلم راؤ کا کہنا ہے کہ بچے کے ہاتھ حرکت کرنے لگے ہیں تاہم آئندہ 6 ماہ تک کاشف کی فزیو تھراپی جاری رہے گی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچہ ٹریٹمنٹ کے بعد 90 فیصد تک عام انسان کی طرح اپنے ہاتھوں کو استعمال کرسکے گا۔

Image Source: Facebook

مزید برآں ، بہاولپور کے وکٹوریہ اسپتال میں کہروڑ پکا کی رہائشی 11 سالہ سونیا بچی کے کٹےہاتھ کو آپریشن کرکے کامیابی سے جوڑ دیا۔اس بچی کا دایاں ہاتھ کلائی سے یکسر الگ ہوچکا تھا، تاہم سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم نے بچی کے کٹے ہاتھ کو آپریشن کرکے جوڑ دیا اور تین ہفتے کے بعد اب بچی کا ہاتھ مکمل طور پر کام کرنے لگ گیا ہے۔

بلاشبہ وقت کے ساتھ ساتھ میڈیکل سائنس دن بہ دن ترقی کررہی ہے، اس شعبے میں تحقیق کے ذریعے انسانی زندگی کو بچانے کے لئے حیرت انگیز تجربات کئے جارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ڈاکٹر طلحٰہ درانی نے ملک میں شوگر کے مریضوں کی سوئی سے جان چھڑوانے کے لئے انسولین پر مبنی پیچز تیار کئے جس سے شوگر کے مریضوں کو انسولین کے ٹیکے نہیں لگوانے پڑیں گے اور اس کی بجائے وہ یہ انسولین پیچز جلد پر چپکاکر اپنی صحت کا خیال رکھ سکیں گے۔

مزید پڑھیں: خوشخبری ۔۔پاکستان میں خون لیے بغیر گردوں کے علاج کی مشین تیار

ان انسولین پیچز کے تمام لیب ٹیسٹ کامیاب ہوچکے ہیں جبکہ لندن سے پیٹنٹ کے حصول پر کام ہورہا ہے۔ اس نئی دریافت نے عالمی سرمایہ کاروں کی بھی توجہ حاصل کرلی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک انسولین پیچ کی قیمت 50 روپے کے لگ بھگ ہوگی۔ان کی تیاری میں برطانوی ڈاکٹرز پروفیسر ڈینس دورومس، نیورولوجسٹ ڈاکٹر میاں ایاز الحق اور میکٹرونکس انجنئیر ڈاکٹر انعم عابد نے بھی حصہ لیا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago