کراچی چڑیا گھر کی ممتاز بیگم انٹرنیشنل میڈیا کی توجہ کا مرکز

شہر کراچی کے چڑیا گھر میں ایک ایسی مخلوق موجود ہے جس سے ملتی جلتی مخلوق دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی ،جس کا نام ہے “ممتاز بیگم”جو کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں۔ کئی عرصے سے اپنے مخصوص انداز میں بستر پر براجمان ممتاز بیگم اپنے کردار، لطیفوں اور حاضر دماغی سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی آرہی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایٹالس اوبسکارا نامی انٹرنیشنل ٹریول کی جو کہ دنیا بھر سے انوکھی اور منفرد چیزوں کو منظر عام پر لیتی ہے، کی ایک ٹوئٹ بہت وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ممتاز بیگم کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں بتا رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ ممتاز بیگم کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آدھی لومڑی اور آدھی عورت کا یہ افسانوی کردار کئی نسلوں سے کراچی کے چڑیا گھر کی سب سے زیادہ پرکشش تفریح ہے۔ اس اخبار کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز بیگم کا کہنا تھا کہ انہیں دیکھ کر اور ان سے باتیں کر کے لوگ خوش ہوتے ہیں اور یہی چیز ان کے لیے خوشی کا باعث ہے۔

برطانوی اخبار کے اس رپورٹر کا ممتاز بیگم کے بارے میں کہنا ہے کہ لوگ چڑیا گھر جانور تو دیکھنے جاتے ہی ہیں مگر ممتاز بیگم سے ملنے کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ ہنس کھیل کر لوگوں کو مزے مزے کے لطیفے سناتی اور قسمت کا حال بھی بتاتی ہیں۔

Image Source: Youtube

ممتاز محل کی ممتاز بیگم کون ہیں؟

چڑیا گھر کے “ممتاز محل”میں موجود ممتاز بیگم جس کا سر انسانی اور دھڑ لومڑی کا ہے ،آدھی عورت اور آدھی لومڑی جیسی مخلوق پر دنگ رہ جاتے ہیں اور ایک نظر میں یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل میں اللہ کی قدرت ہے یا صرف یہ ایک بہروپ ہے۔ ممتاز بیگم کوئی انوکھی مخلوق نہیں بلکہ اس عورت کے پیچھے ایک مرد ہے جس نے لومڑی کی کھال میں ایک خاص قسم کا روپ دھار رکھا ہے ، اپنے منفرد افسانوی کردار کی وجہ سے ممتاز بیگم نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں میں بھی مقبول ہے آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ممتاز بیگم کوئی خاتون نہیں بلکہ ایک مرد ہیں جن کا اصل نام مراد علی ہے۔ مراد علی میک اپ کے ذریعے عورت جیسا چہرہ بنا لیتے ہیں اور دھڑ لومڑی جیسا ہے کیونکہ وہ نیچے سے لومڑی جیسی کھال پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔

Image Source: Youtube

وہ تقریباً چالیس سال سے بارہ گھنٹے سے زائد وقت ممتاز بیگم کا کردار نبھاکر چڑیا گھر میں آنے والوں کو محظوظ کررہے ہیں۔ جب کہ انہیں اپنے گاﺅں جانے کیلئے اُنہیں ایک ماہ کی چھٹی ملتی ہے اور اس دوران ممتاز محل بند رہتا ہے۔مراد علی سے قبل ان کے والد”ممتاز بیگم” کا کردار ادا کرتے تھے لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے مراد علی نے یہ کردار سنبھالیا۔

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ سے عجیب و غریب قسم کی مخلوقات کو دیکھنا پسند کرتا اور اس میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چالیس سالوں میں کئی ملکی و غیرملکی لوگوں کی ایک بڑی تعداد ممتاز بیگم سے ملاقات کرچکی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago