کراچی کی خاتون نے مہنگائی پر وائرل ہونیوالے اپنے ویڈیو پیغام کی وضاحت کردی

عالمی کورونا وباء کے حالات اور لاک ڈاؤن کے دوران جہاں لوگوں کا کاروبار ابھی ٹھیک سے بہتر نہیں ہوا ہے ،نوکریاں چلی گئیں، اس بحران میں لوگوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی، وہیں آسمان چھوتی مہنگائی کی مار نے عام لوگوں کی کمر توڑ دی ہے بلکہ عام لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے.

پچھلے کچھ مہینوں سے تو ہر چیز کی قیمت نے ریکارڈ توڑ دیا ہے جس سے روز مرہ کی چیزیں کافی مہنگی ہوگئی ہیں۔

Image Source: Screengrab

موجودہ صورتحال پر کراچی کی شہری رابعہ عابد نے اپنی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کمر توڑتی مہنگائی پر حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی تاہم انہوں نے اب اپنے ویڈیو پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان ویڈیوز کے ذریعے کسی سے مالی امداد نہیں مانگ رہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک نئی ویڈیو میں رابعہ عابد نے کہا کہ “وہ اپنی ویڈیو کے ذریعے کسی قسم کی مالی امداد نہیں چاہتیں بلکہ سیاستدانوں سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ آنکھیں کھولیں اور متوسط طبقے کے لوگوں کو کچھ ریلیف دیں۔ آج ایک ماں آپ کے سامنے آنسو بہا رہی ہے تو کل بہت سی اور مائیں بھی آنسو بہائیں گی۔ انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ میں نے کچھ ماؤں سے بات کی ہے جو میڈیا کے سامنے نہیں آسکتیں لیکن انہوں نے بھی ان کے موقف کی تائید کی ہے۔میں ان ماؤں اور متوسط طبقے کے خاندانوں کی آواز بنی ہیں جو موجودہ حالات میں سنگین پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ “میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے میری حمایت کی۔ میں ان تمام لوگوں کا نام نہیں لے سکتی جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا ہے، میں صرف حکومت سے مناسب جواب حاصل کرنا چاہتی ہوں ،حکومت کو کم از کم متوسط طبقے کے لوگوں کی شکایات کو سننا چاہیے”۔انہوں نے ویڈیو میں مزید کہا کہ “حکمران صرف اپنی نشستوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور وہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو بالکل نظر انداز کررہے ہیں”۔

اس سے قبل رابعہ عابد کی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے مہنگائی کی شرح میں اضافہ کرنے پر پاکستان کے موجودہ حکمرانوں پر خوب تنقید کی تھی ،ان کا کہنا تھا کہ اس مہنگائی میں متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے اپنے گھر کے اخراجات چلانا مشکل ہوگیا ہے۔

ملک میں گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ، ملازمتوں کے کم مواقع اور بہترین آمدنی کے ذرائع کے لئے اب خواتین کی اچھی خاصی تعداد ایسے پیشے اختیار کر رہی ہے جو پہلے صرف مردوں تک مخصوص تھے۔ گزشتہ دنوں شہر قائد میں 17 سالہ علیشہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی ، جو کہ اپنی والد کی اچانک وفات کے بعد گھر کی کفالت کے لئے رکشے چلاتی ہیں۔

مزید برآں ،کلفٹن اور صدر میں واقع پیٹرول پمپس پر اب خواتین پیٹرول پمپ بھرنے کا بھی کام کر رہی ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 week ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

2 weeks ago

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

4 weeks ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

1 month ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

1 month ago