خواتین پولیس اہلکاروں کے موٹر سائیکل ٹریننگ پروگرام کے مثبت نتائج

Image: Arab News

قیام پاکستان کی بنیاد سے لیکر پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اس قوم کی خواتین کا کردار ناصرف مثالی رہا ہے بلکہ قابل ستائش کارکردگی سے اپنے آپ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی خوب منوایا ہے۔ اگر ان کے حوصلے، عزم اور ہمت کی ہی بات کرلی جائے تو مشکل سے مشکل حالات کا ڈٹ کر سامنا کرنے سے بھی کبھی گریز نہیں کرتیں۔

اس ہی سلسلے سے منسلک ایک خبر جس میں سندھ پولیس کی جانب سے لیا گیا ایک بڑا اقدام، جس کے تحت سندھ پولیس کی جانب سے خواتین اہلکاروں کے لئے موٹر سائیکل ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا گیا جس کے تحت خواتین پولیس کو موٹر سائیکل ٹریننگ فراہم کی گئی۔ جس سے وہ ناصرف اپنے دفتری امور بہترین طریقے سے سرانجام دے رہیں ہیں بلکہ اس سے ان کی ذاتی زندگی کے معاملات پر بھی مثبت اثر نظر آرہا ہے اور وہ بااختیار خواتین بھی بن رہیں ہیں ۔ اس پروگرام سے اس وقت تقریباً 80 کے قریب خواتین پولیس کانسٹیبل منسلک ہیں۔ جبکہ اس پروگرام کا ابتدا کرنے والے پولیس سپریٹنڈنٹ ندیم احمد جنہوں نے انڈونیشیا میں اقوامی متحدہ کی نمائندگی کرنے کے بعد وطن واپسی پر اس پروگرام کا آغاز کیا تھا۔

Image:Arab News

جبکہ ان ہی خواتین پولیس کانسٹیبل میں ایک نام افشاں مرتضی کا بھی ہے جو ان سات خواتین اہلکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں اپنا ٹریننگ ٹائم مکمل کیا۔اور

عرب نیوز کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے افشاں مرتضی نے بتایا کہ وہ کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن کی رہائشی ہیں، موٹر سائیکل ٹریننگ پروگرام کا حصہ بن کر اب بہت خوش ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی کافی مشکلات کم ہوگئیں وہ اب اپنے دفتر وقت پہنچتی ہیں ورنہ اس سے قبل ان کو اپنی ڈیوٹی پر فیروز آباد تھانے آنے جانے میں ہی 2،3 گھنٹے لگ جایا کرتے تھے۔ وہ بس میں سفر طے کیا کرتیں تھی جس سے ان کی تمام تر ہمت آنے جانے کے سفر میں ختم ہوجایا کرتی تھی۔ تاہم اپنی موٹر سائیکل پر ان کا یہ سفر مشکل سے آدھے گھنٹے کا ہوگیا ہے، ساتھ ہی اس لاک ڈاؤن کے عرصے میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ بند تھی وہیں افشاں کو آنے جانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ اب وہ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ باہمت اور بااختیار سمجھتی ہیں۔

Image:Arab News

جبکہ دوسری جانب اس پروگرام کا آغاز کرنے والے پولیس سپریٹنڈنٹ ندیم احمد نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا بھر کے مسلم ممالک اپنی خواتین اہلکاروں کو بااختیار بنا رہے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں بناسکتا ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروگرام ان کو اس وقت آیا جب انہوں نے اس بات کو نوٹس کیا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی پر آنے جانے میں کتنی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اپنی خواتین اہلکاروں کو اس پروگرام پر ناصرف آمادہ کیا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

Image:Arab News

انہوں اس پر مزید بتایا کہ یہ پروگرام اتنا آسان نہیں تھا کئی مشکلات آئیں لیکن جب آپ کوئی ایک مثبت کام کرنے کی ٹھان لیں تو پھر اللہ آپ کی مدد ضرور کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں یہ بھی بتایا کہ کئی اہلکاروں کو پروگرام کے دوران کافی چوٹیں بھی آئیں لیکن ان کے عزم و حوصلے کافی بلند تھے۔

Source: Arab News

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago