کمالیہ میں غریب نوجوان پر بااثر افراد کا ہولناک تشدد، ویڈیو وائرل

نسانیت نہ تو کسی رشتے کا نام ہے اور نہ ہی کسی تعلیم کا نام ہے، یہ تو محض ایک احساس کا نام ہے، جو ایک انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لئے ہوتا ہے، جو دماغ اور زہن میں بس یہی خیال پیدا کرتا ہے کہ سامنے والا تکلیف کی زد میں ہے۔ لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں کچھ درندہ صفت حیوان آج بھی موجود ہیں، جو ناصرف اپنے آپ کو زمینی خدا تصور کرتے ہیں، بلکہ وہ دوسروں کو انسان سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔

ایسا ہی ظلم و بربریت کا واقعہ صوبہ پنجاب کے شہر کمالیہ میں پیش آیا، جہاں بااثر افراد نے دن دہاڑے نوجوان کو گھر سے بلا کر کھیتوں میں لے گئے ، جہاں ہولناک تشدد اور بدفعلی کی کوشش کی گئی۔ متاثرہ شخص انصاف کا منتظر ہے۔

Image Source: Screengrab

تفصیلات کے مطابق کمالیہ کے ایک نواحی علاقے مل فتیانہ میں انسانیت سوز واقعہ رونما ہوا، جہاں با اثر اسلحے کے زور پر 30 سالہ غریب نوجوان امداد حسین کو زبردستی گھر سے آٹھا کر کھیتوں میں لے گئے، جہاں اسے ناصرف چھتروں سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بلکہ مظلوم کو برہنہ کرکے اس کے ساتھ بدفعلی کی کوشش کی گئی۔ اس دوران بااثر افراد نے نازیبا اور ہتک آمیز کلمات ادا کئے اور واقعہ کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔

Image Source: Screengrab

بااثر ملزمان کا اس پر دل نہیں بھرا، انہوں نے متاثرہ نوجوان کی ویڈیو اس کے رشتے داروں کی بھی بھیج دی، جس کے بعد وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

جوں ہی افسوسناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، تو پولیس بھی فوری حرکت میں آئی، ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

تھانہ صدر کمالیہ پولیس نے کیس کے مدعی امداد حسین کی درخواست پر 13 نامزد اور 6 نامعلوم ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 148، 109، 511 ،377 ، 342، 355 اور 149 ت پ کے تحت مقدمات درج کرکے 2 نامزد ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ جس پر۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں مدعی کے سامنے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔

اس موقع پر مدعی امداد حسین نے بتایا کہ نامزد ملزم علی احمد نے اسے فون کرکے بلایا اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر زیادتی کی کوشش کی، ویڈیو بنائی اور پھر اسے وائرل کر دی۔ ساتھ ہی ملزمان کی جانب سے اسے دھمکیاں بھی مل رہی ہیں کہ وہ پولیس کے پاس شکایت لیکر کیوں گیا۔ چنانچہ متاثرہ نوجوان نے وزیر اعلی پنجاب سے درخواست کی ہے کہ اس کے زیادتی ہوئی، اسے انصاف فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کچھ عرصہ قبل فیصل آباد سے تشدد کی ایک ہولناک ویڈو سامنے آئی تھی، جس میں چند بااثر ذہنی معذور نوجوان شخص کو جانوروں کا چارہ چوری کرنے کے الزام میں اسے ایک پول سے باندھ کر انتہائی بے دردی کے ساتھ ڈنڈے مارتے ہیں۔ جس پر متاثرہ شخص درد کے مارے چیختا چلاتا ہے اور رحم کی التجا کرتا ہے، لیکن بےرحم لوگوں کو اس پر کوئی ترس نہیں آتا ہے اور وہ اسے تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

اس سے قبل سیالکوٹ سے بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا وائرل ہوئی تھی، جس میں دیکھا گیا تھا کہ کچھ ظلم قسم کے افراد ایک چھڑی کے ذریعے خواجہ سرا کو بے انتہاء تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور وہ بیچارا مظلوم خواجہ سرا رحم اور زندگی کی منتیں کرتا رہا رہتا ہے، لیکن درندہ صفت لوگ بے رحمی سے تشدد جاری رکھتے ہیں

Story Courtesy: News 360

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago