کورونا وائرس کی تیسری لہر اور عید کی آمد آمد


0

دنیا بھر کے مسلمان ماہ صیام میں عبادت و ریاضت کا اہتمام کرنے کے بعد عید الفطر کا تہوار جوش وخروش سے مناتے ہیں عید گاہ سمیت بڑی مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، گلے مل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، نئے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر اہتمام سے تیار ہو کے ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں، تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں، بچوں کو عیدی دیتے ہیں اور روایتی پکوانوں سے ایک دوسرے کی تواضع کرتے ہیں لیکن اس پچھلے سال کی طرح اس سال بھی سب کچھ بدل گیا ہے اور کسی کے لیے بھی ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ روایتی انداز سے اپنی خوشیاں مناسکے۔ اس مرتبہ تو رمضان المبارک کی روایتی رونقیں بھی ماند پڑی ہوئی تھیں اس کی بنیادی وجہ عالمی وبا کورونا وائرس ہے جس کے خوں آشام پنجے ہر گزرتے لمحے میں انسانی جانوں کو لقمہ اجل بنا رہے ہیں۔

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح عالمی وبا میں حکومت نے حفاظتی اقدامات کے تحت ملک بھر میں لاک ڈاؤن سمیت سیلف آئسولیشن پر سختی سے عمل درآمد کروانے کی کوشش کی۔ اگرچہ ماضی میں سیلاب، طوفان اور زلزلے جیسی قدرتی آفات دیکھیں ہیں لیکن کبھی اس سے پورا ملک بند نہیں ہوا، کچھ متاثرہ علاقے اگر بند ہوئے بھی تو وہ کچھ دن کے بعد ان کی تمام سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوگئیں ۔لیکن کورونا کی وبا نے تو ملک کا پہیہ جام کردیا اور پورے ملک میں لاک ڈاؤن لگ گیا۔ ابھی بھی ملک کورونا وائرس کی تیسری لہر کے زیر اثر ہے اور تمام تر سرگرمیاں ایک بار پھر معطل ہیں، شادی ہال سے لیکر شاپنگ مال، ریسٹورانٹ سے لیکر پارک ہر جگہ ویرانی نےڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

ماہ صیام کا یہ بابرکت مہینے بس کچھ ہی دن کا مہمان ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں امت مسلمہ نے عید منانی ہیں۔ لیکن اس بار عید پر کیا پہلے جیسا مزہ ہوگا یا پچھلے سال کی طرح لاک ڈاؤن میں یہ عید بھی عام چھٹی کے دن کی طرح گھر میں ہی گزرجائے گی؟ اُمید ہے کہ کورونا کی صورتحال میں ایسی عید ہم آخری بار منائیں اور عید کی رونقیں دوبارہ بحال ہوجائیں۔ لیکن ہم اس عید پر بور ہونے کے بجائے اس دن کو یادگار بھی بناسکتے ہیں کیسے ؟؟ آئیں ہم بتاتے ہیں۔

٭عید کے دن نماز کی ادائیگی کے بعد اہل خانہ کے لئے صبح کے ناشتے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

عموماً مرد حضرات حلوہ پوری پراٹھے ، کچوری وغیرہ نماز سے واپسی کے بعد لیتے ہوئے آتے ہیں اور سب گھر والے مل کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اس بار عید والے دن حلوہ پوری ملے گی؟ شاید نہیں ۔۔تو کوئی بات نہیں اس بار گھر پر ہی حلوہ پوری تیار کرلیں اور تعریفیں سمیٹیں۔

ہمارے گھروں میں خاتون خانہ کے ساتھ ساتھ مرد بھی اس طرح کے کھانے پکانے میں تھوڑی دلچسپی رکھتے ہیں تو کیا ہی اچھا ہو کہ اس بار گھر میں ہی پوریاں اور چھولے ترکاری بنالی جائے یوں اس سال کی عید کی صبح منفرد ہوجائے گی۔

٭میٹھی عید پر دوسرا اہم کام رشتہ داروں سے عید ملنا اور عیدی دینا ہوتا ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس سرگرمی کو روکنا پڑجائے گا کیونکہ اگر عید کے دن مہمان آپ کے گھر میٹھائی لے آئے توموجودہ حالات میں ڈر ہے کہ کہیں میٹھائی کے ساتھ کورونا بھی ساتھ نہ لے آئیں۔ بہتر ہے کہ اس بار عید کو ڈیجیٹل انداز سے منائیں قریبی رشتہ داروں کو ویڈیو کالز کرلیں اور عید کی مبارک باد دیں یوں ایک دوسرے کے کپڑوں کی تعریف کرسکتے ہیں، پکے کھانوں کو دیکھ کر ان کا ذائقہ محسوس کرسکتے ہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر آن لائن ورچوئل پارٹیوں کا انعقاد بھی ممکن بنا سکتے ہیں اس سے آپ اپنے کافی رشتہ داروں سے بیک وقت گپ شب بھی کرسکتے ہیں اور سب کو عید کی مبارکباد بھی دے سکتے ہیں۔

٭تیسرا سب اہم کام رات کا کھانا ہوتا ہے

جو عموماً پوری فیملی باہر جاکر انجوائے کرتی ہے۔ یہ لمحات اس بار بھی کہیں نہیں جارہے بس آپ کو اس کا انداز بدلنا ہوگا ، تو کرنا یہ ہے کہ اس بار عید کی رات میں اہل خانہ کے ساتھ بار بی کیو کا اہتمام کریں اس طرح سب ساتھ مل بیٹھیں گے اور مذاق مستی میں اچھا وقت گزر جائے گا۔ جب کہ وہ لوگ جو عید کے دن باہر جاکر پیزا کھاتے ہیں وہ ایسا کریں کہ آرڈر کرکے پیزا گھر پر ہی منگوالیں اور انجوائے کریں۔

٭عید کے دن سینما جاکر فلم دیکھنا

عید کے دن اکثر فیملیز سینما جاکر فلم دیکھنا کا پروگرام بھی بناتے ہیں جو شاید اس بار بھی ممکن نہیں تو اداس ہو نے کے بجائے کیوں نہ ایسا کریں کہ گھر کو ہی سینما بنالیں ۔اس دن کوئی بھی اچھی مووی جو آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں ،باربی کیو کی تیاری کے دوران ڈاؤن لوڈ پر لگا دیں تاکہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آرام سےسب ملکر مووی دیکھ سکیں۔ اس طرح سب ہی کا وقت اچھا گزرجائے گا اور اس مووی کی اچھی بات یہ ہوگی کہ اس کے دوران انٹرول بھی نہیں ہوگا لہٰذا کولڈ ڈرنک اور پوپ کارن پہلے سے تیار رکھیں اور سب مل بیٹھ کر فیملی ٹائم انجوائے کریں۔

٭آخر میں آپ سوچ رہے ہونگے عیدی کے پیسوں کا کیا ہوگا

جب سب کچھ گھر میں ہی ہوجائے گا؟ تو اس بار عیدی جمع کرکے ان لوگوں کو دیجئے جن کو یہ سب میسر نہیں اور ان کی بھی امداد کیجئے جو لاک ڈاؤن میں معاشی پریشانیوں میں گھیرے ہوئے ہیں اپنی عید اچھی بنانے کے لئے آپ کے “منتظر” ہیں۔

یقیناً یہ عید پچھلی عیدوں سے بہت مختلف ہوگی عید اللہ کا تحفہ ہے اور بطور مسلمان ہمیں اس کو اچھے سے گزانا ہے کیونکہ مسلمانوں کے لئےعید کا دن خوشی کا دن مانا جاتا ہے تو ہمیں خوشی کے ساتھ ہی عید منانی ہے وہ بھی پورے جوش وجذبے کے ساتھ لیکن یاد رہے کہ ان سب میں ہمیں احتیاطی تدابیر کو ہر گز نظر انداز نہیں کرنا ہے۔ اہل خانہ کے ساتھ عیدالفطر کی چھٹیاں اور خوشیاں مناتے ہوئے اس بات کو لازمی ذہن نشین رکھیں کہ کورونا وائرس “چھٹی” پہ نہیں گیا ہے۔


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
1
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format