گھوٹکی:لڑکے کیساتھ تصویر پر 19 سالہ لڑکی غیرت کے نام پر قتل

زمین پر حوا کی بیٹی کے ساتھ ظلم وبربریت کا ایک اور ہولناک واقعی ،فیس بک پر لڑکے کے ساتھ تصویر کے معاملے پر بھائیوں نے 19 سالہ بہن کو گولی مار کر بے دردی سے قتل کر دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہولناک واقعہ گھوٹکی شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں نور محمد شر میں پیش آیا، جہاں تین بھائیوں بے اپنی بہن کو اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا، جب گزشتہ ہفتے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اس کی تصویر ایک شخص کے ساتھ دیکھی گئی۔

Image Source: File

اس موقع پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ قاتلوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس میں تین بھائیوں غلام رسول، صاحب دینو شر اور شوبن شر نے اپنے ساتھی غلام الدین کے ساتھ مل کر 19 سالہ صفوران کو گولی مار کر قتل کر دیا، بعدازاں مقتولہ کی لاش دریائے سندھ میں پھینک دی۔ پولیس دو روز سے لاش کی تلاش کررہی ہے جبکہ تمام ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس اہلکار علی گل نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ 4 اپریل کی شام غروب آفتاب کے قریب پیش آیا، اگرچے ہم نے ابھی تک کسی قاتل کا سراغ نہیں لگایا ہے لیکن ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ ان کی ٹیم کو اطلاع ملی کہ ایک نوجوان لڑکی کو گولی مار کر قتل کر کے اس کی لاش دریائے سندھ میں پھینک دی گئی ہے۔ چنانچہ پولیس ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور معلومات اکٹھی کرنے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ ساتھ ہی مقتولہ کی لاش کی تلاش کو ایک مشکل معاملہ بھی قرار دیا۔

Image Source: File

اس حوالے سے پولیس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ لڑکی کو اس وقت گولی ماری گئی، جب اس کے بھائیوں نے فیس بک پر ایک لڑکے کے ساتھ اس کی تصویر دیکھی۔ لہٰذا یہ غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ لگتا ہے۔

واضح رہے چند روز قبل سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے ایک گاؤں میں اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو اپنے ہی سگے بھائی نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا، بھائی کی جانب سے یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا تھا، جب ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس کی طرف سے ملزمان ہے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی تھی، البتہ پولیس کا دعویٰ تھا کہ ملزمان نے عدالت سے عبوری ضمانت لے رکھی تھی۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل صوبائے سندھ کے شہر دادو میں قتل کا اندوہناک واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں ایک نوجوان لڑکی جو اپنے محبوب کے ساتھ گھر سے بھاگی تھی، اسے مبینہ طور پر اس ہی شخص نے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔ دوران حراست ملزم نے انکشاف کیا کہ مقتولہ نے اس سے خود درخواست کی تھی کہ وہ اسے گلا گھونٹ کر قتل کردے ورنہ اس کا خاندان اسے غیرت کے نام پر قتل کردے گا، لہذا اس نے محبوب کے ہاتھوں قتل ہونا ٹھیک سمجھا، تاہم مقتولہ کے اہلخانہ نے ملزم کے خلاف سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم مقتولہ سے شادی کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، چنانچہ ملزم کو ڈر تھا کہ اگر وہ زندہ گھر گئی، تو وہ خاندان کے سامنے اس کی شناخت کرلے گی۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago