ڈاکٹر ماہا کیس: مجرمان کی عدالت سے فرار ہونے کی کوشش ناکام

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خودکشی کرنے والی نوجوان خاتون ڈاکٹر سیدہ ماہا شاہ کے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم جنید خان اور ڈاکٹر وقاص کی احاطہ عدالت سے پولیس کو چکما دے کر فرار ہونے کی کوشش، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو عدالت سے منسلک روڈ پر رکشے میں بیٹھتے ہوئے گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ہائی پروفائل ڈاکٹر ماہا شاہ مبینہ خودکشی کیس کی کراچی سٹی کورٹ کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سماعت ہوئی، گزشتہ سماعت کے موقع پر نامزد مجرمان جنید خان اور وقاص کی درخواست ضمانت جمع کروائی گئی، تاہم عدالت نے آج درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مجرمان کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کردیا۔

جس پر دونوں مجرمان جنید خان اور وقاص کمرہ عدالت سے ڈوڑتے ہوئے فرار ہوگئے۔ البتہ پولیس کی جانب سے دونوں مجرمان کا بھرپور تعاقب کیا گیا اور عدالت کے باہر رکشے میں بیٹھ کر بھاگنے کی کوشش کرنے پر پولیس نے ملزمان کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا۔ اس موقع پر مجرم جنید خان جب عدالت سے بھاگا تو اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی، جبکہ اطلاعات ہیں کہ مجرمان کو عدالت سے بھگانے میں مجرمان کے وکیل کی معاونت شامل تھی، یہی وجہ ہے کہ جب پولیس کی جانب سے مجرمان کو دوبارہ حراست میں لینے کی کوشش کی جاتی رہی تو وکیل مسلسل ملزم جنید خان کی گرفتاری سے روکتے رہے۔

Image Source: Twitter

اس دوران نامزد مرکزی ملزم جنید خان نے اس کیس کے تفتیشی افسر شرافت علی پر الزام عائد کیا کہ تفتیشی افسر نے انہیں اس پورے کیس میں فائدہ پہنچانے کے لئے ایک لاکھ روپے رشوت وصول کی ہے۔

واضح رہے گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے ڈیفنس گزری کے ایک گھر کہ پہلی منزل پر واقع واش روم میں نوجوان ڈاکٹر ماہا شاہ نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ بعدازاں لڑکی کے والد سید آصف علی شاہ نے جنید خان سمیت 3 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرواتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان مجرمان نے ان کی بیٹی کو نشے کا عادی بنایا اور جنید خان ان کی بیٹی پر تشدد کیا کرتا تھا۔ جس کے بعد پولیس کی جانب سے اس کیس کہ تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

Image Source: Image

یاد رہے ان تمام الزامات کو نامزد ملزم جنید خان کی جانب سے پہلے ہی رد کیا جاچکا ہے۔ اس حوالے سے جنید خان نے ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی، جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر ماہا اور وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، وہ چار سال سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، ڈاکٹر ماہا اکثر و بیشتر اپنے گھریلو مسائل کے باعث پریشان رہا کرتی تھیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago