چاچا نان خطائی والے 9 بیٹوں کی موجودگی میں بھی سخت محنت پر مجبور

ماں باپ اپنے بچوں کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں اور اپنی خواہشوں کی قربانیاں دے کر اپنے بچوں کو دنیا میں چلنے کے قابل بناتے ہیں، مگر وہی بچے بڑھاپے میں ماں باپ کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتے۔ کراچی کے عبدالقدیر جو نو بیٹوں کے والد ہیں 70 سالہ کی عمر میں بھی نان خطائی کا ٹھیلا لگاکر اپنے اور اپنی اہلیہ کے لئے رزق حلال کا بندوبست کرتے ہیں۔

ایک ویب چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں عبدالقدیر نے بتایا کہ وہ اپنے علاقے میں ‘چاچا نان خطائی’ کے نام سے مشہور ہیں اور وہ کئی عرصے سے نان خطائی کا ٹھیلا لگا رہے ہیں۔ یہ نرم اور خستہ نان خطائیاں وہ اور ان کی اہلیہ مل کر گھر میں بناتے ہیں۔ عبدالقدیر اس عمر میں آرام کرنے کے بجائے اتنی محنت اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ اپنا اور اپنی اہلیہ کا پیٹ پال سکیں۔

Image Source: Screengrab

عبدالقدیر کے نو بیٹے ہیں جن میں سے آٹھ شادی شدہ ہیں لیکن وہ اپنے والدین کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے اور عبدالقدیر کو اولاد سے پیسے مانگنا اچھا نہیں لگتا اس لئے دونوں میاں بیوی مل جل کر محنت کرتے ہیں۔ گھر میں نان خطائی بنانے کے علاوہ ان کی اہلیہ سلائی بھی کرتی ہیں۔

Image Source: Screengrab

ستر سال کی عمر میں جب عام طور پر انسان کو بہت سی بیماریاں گھیر لیتی ہیں ، عبدالقدیر چکا وچوبند ہیں اور اپنے سارے کام سائیکل پر کرتے ہیں ، وہ بیماری کی حالت میں بھی کام کرتے ہیں کیونکہ انہیں ہر ماہ گھر کا کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ اتنی سخت محنت اور مشکلات کے باوجود عبدالقدیر اپنے حالات پر مایوس نہیں وہ کہتے ہیں اللہ کے نزدیک پیسے کی کوئی اہمیت نہیں جبکہ ہم نے پیسے کو خدا بنایا ہوا ہے۔ یہ آزمائشیں خدا کی طرف سے آتیں ہیں اور میں ہر حالت میں اپنے رب کاشکر گزار ہوں۔

والدین جو کہ اپنا خون پسینہ ایک کرکے اپنی اولاد کو پالتے ہیں کہ مستقبل میں یہ اولاد ان کا سہارا بنے گی مگر بعض اولادیں اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ لاپرواہی سے کام لیتے ہیں اور وہ والدین جن کے ساتھ مسکرا کے بات کرنے کو بھی ثواب کا درجہ دیا گیا ہے اولاد ان کی نافرمانی کرتی ہے بلکہ بڑھاپے میں انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں صرف چاچا نان خطائی والے ہی نہیں ان کی طرح کے کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنی اولاد کی بے راہ روی کی وجہ سے بڑھاپے میں مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ ان کی اولاد اپنی زندگیوں میں خوش باش ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں بیوہ خاتون پر دیوروں کا ظلم، مدد کی اپیل کردی

اس سےقبل ایک بےرحم بیٹی نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنی ضعیف العمر والدہ سے ان کی عمر بھر کی کمائی چھین کر انہیں گھر سے نکال دیا تھا۔ سگی اولاد کے ہوتے ہوئے درد در کی ٹھوکریں کھاتی اس بےبس ماں نے کراچی میں واقع صارم برنی ٹرسٹ میں پناہ اختیار کی اور جب سوشل میڈیا پر ان کی دکھ بھری داستان وائرل ہوئی تو ہر آنکھ اشکبار ہوگئی تھیں۔

Story Courtesy: Aaro

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 week ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

2 weeks ago

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

4 weeks ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

1 month ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

1 month ago