اداکارہ یشما گل کی گاڑی سے نامعلوم افراد موبائل فون لے اُڑے

روشنیوں کے شہر کراچی میں چوری وڈکیتی کی وارداتیں کوئی نئی نہیں، اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے علاوہ یہ لیٹرے دن دھڑے بھی گھروں میں گھس کرنقدی و قیمتی اشیاء لے اڑتے ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لیٹرے کسی کی پکڑ میں بھی نہیں آتے۔ عام عوام کیا ان ڈاکوؤں کی لوٹ مار سے تو فنکار بھی محفوظ نہیں۔ اس حوالے سے اداکارہ یشما گل نے حال ہی میں کراچی میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے سے متعلق بتایا ہے۔

اداکارہ یشما گل نے انسٹاگرام پر اسٹوری پوسٹ کی اور بتایا کہ وہ کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8 سے گزر رہی تھیں کہ دو  موٹر سائیکل سوار  بھائیوں کا ایکسیڈینٹ ہوا جس کے بعد ان کی حالت کافی خراب تھی۔ اداکارہ نے بتایا کہ دونوں ہی لہولہان تھے اور لوگ انہیں اٹھا کر سڑک کے کنارے پر کر رہے تھے، انہیں دیکھ کر میں گاڑی سے اتری اور ظاہر کیا کہ میں ڈاکٹر ہوں تاکہ ارد گرد کا ہجوم تھوڑا پیچھے ہو اور حادثے کے شکار افراد کو دلی تسلی ہو۔

Image Source: Twitter

یشما گل نے ویڈیو میں بتایا کہ میں نے وہاں موجود چند لوگوں کی مدد سے دونوں زخمیوں کو گاڑی میں بٹھایا، گاڑی چلانے سے قبل اپنے دوست کو مدد کی غرض سے بلانے کے لیے فون ڈھونڈنا چاہا لیکن گاڑی سے موبائل فون غائب تھا۔

اداکارہ نے کہا کہ گاڑی سے جلدی اترنے کی وجہ سے فون سیٹ پر ہی رہ گیا تھا اور چند ہی دیر میں وہ غائب بھی ہوگیا، جن کا ایکسیڈینٹ ہوا ان میں سے بھی کسی ایک کا والٹ نکال لیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسپتال پہنچنے پر میں نے اپنے فون پر کال کی تو اس وقت تک سِم چل رہی تھی، تقریباً آدھے گھنٹے بعد جس نے میرا فون اٹھایا تھا اس نے اسے بند کردیا۔

Image Source: Instagram

مذکورہ ویڈیو کے اختتام پر یشما گل نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتنی شرم کی بات ہے کہ کسی کی مدد کرنے جاؤ اور پیچھے سے یہ ہوجائے، جس نے فون یا والٹ نکالا اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ دوسرا کس حال میں ہے اور اس وقت ایسا گناہ نہ کیا جائے۔

اس سے قبل شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حرا مانی کو بھی ڈیفنس میں واقع ان کے گھر کے باہر گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا تھا۔ اداکارہ کی جانب سے انسٹاگرام اسٹوری پر گن پوائنٹ پر لوٹے جانے کی ویڈیو مداحوں سے شیئر کی تھی جس میں ڈاکوؤں نے ان سے موبائل فون سمیت دیگر قیمتی سامان چھین لیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے حرامانی کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے پر عدم تحفظ کے احساس کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سال کے آغاز ہی سے کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور سال کے ابتدائی مہینوں کا جائزہ لیا جائے تو بعض وارداتوں میں تقریباً 100 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ لوٹ مار و ڈکیتی کی ان واردتوں میں کراچی کے مکین کس کو قصوروار ٹہرائیں حکومت ، پولیس یا پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں اور ان واقعات میں دن بہ دن اضافہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں چوری کی انوکھی واردات، چور گھر سے پالتو کتا چُرا کر فرار

یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت شہر قائد کی عوام کو تحفظ فراہم کرے اور موجودہ حالات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس کے علاوہ ، جرائم سے نمٹنے کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ عوام سکھ کی سانس لے سکیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago