ذہنی معذور نوجوان کی وائرل تصاویر کی حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ روز سے ڈاؤن سنڈروم سے متاثرہ ایک نوجوان کی تصاویر بہت تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ کسی نامعلوم سفاک شخص نے اس ذہنی معذور نوجوان کا گردہ نکال کر اسے بے ہوشی کی حالت میں بے یار و مددگار پھینک دیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس بچے کا نام عبید بتایا اور دعویٰ کیا کہ یہ جناح اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے۔

اس متاثرہ نوجوان کی شناخت کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر مختلف بیانات سامنے آرہے تھے کچھ لوگوں کا کہنا تھاکہ اس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے جب کہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نوجوان کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے تو کسی نے یہ بھی کہا کہ یہ ضلع نوشہرہ کا رہائشی ہے۔

Image Source: Twitter

لیکن سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹوئٹ کے مطابق اس نوجوان کا تعلق کراچی کے علاقے گلشن حدید سے ہے اور وہ تین روز قبل لاپتہ ہوگیا تھا۔

Image Source: Twitter

صارفین کی جانب سے مذکورہ نوجوان کی سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصویروں میں جناح اسپتال کا بھی ذکر کیا گیا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ صارفین نے کس جناح اسپتال کا حوالہ دیا ہے۔ لہٰذا ،اس خبر کی حقیقت کو جاننے کے لئے انڈیپنڈنٹ اردو نے کراچی میں واقع ملک کے سب سے بڑے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر (جے پی ایم سی) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی سے رابطہ کیا۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گردے نکالنے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ نوجوان کے جسم پر گردے نکالنے کا کوئی نشان موجود نہیں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے گفتگو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ نوجوان روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ نوجوان روڈ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوا جس سے اس کے سر پر چوٹ لگی تھی، اور وہ اس وقت بے ہوشی کی حالت میں جناح اسپتال کراچی کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے جہاں ڈاکٹرز اس کی جان بچانے کی مکمل کوشش کر رہے ہیں لیکن سر میں چوٹ لگنے کے سبب اس کی حالت تشویشناک ہے۔

Image Source: Twitter

دوسری جانب مختلف عوامی و سماجی حلقوں نے اس واقعے کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مظلوم نوجوان کی مظلوم نوجوان کی بہترین طبّی ومالی امداد کے علاوہ اس سنگین جرم میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا کر نشان عبرت بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آچکی ہیں جن میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہیلتھ پروفیشنل غریب لوگوں سے پیسوں کے عوض ان کے اعضاء غیر ملکی مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک واقعے میں ایک شخص نے 20 سالہ لڑکے کو سرکاری نوکری دلوانے کا جھانسہ دے کر نشہ آور مشروب پلاکر بے ہوش کیا اور پھر اس کا گردہ نکال کر گھر کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔ جس کے بعد قریبی اسپتال میں چیک کروایا گیا تو ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ لڑکے کا دایاں گردہ غائب ہے، متاثرہ نوجوان کے والد کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

مختلف واقعات میں ملک میں ہونے والی یہ غیر قانونی ٹرانسپلانٹ اور اعضاء کی اسمگلنگ ایک سنگین معاملہ ہے اور حکومت کو اس کو ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔

Story Courtesy: Independent Urdu

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago