یاسر حسین نے جہاز میں سفر کرنے والے مردوں کی کلاس لے لی

شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار، میزبان و ڈائریکٹر یاسر حسین کی جانب سے سوشل میڈیا پر فلائٹ اٹینڈینٹ پر شیئر کیے گئے پیغام نے مداحوں کے دل جیت لیے۔

سوشل میڈیا پر یاسر حسین اکثر و بیشتر ہی مداحوں کے ساتھ اپنی نئی تصویریں، ویڈیوز، گھومتے پھرتے بنائے گئے وی لاگز شیئر اور منفرد موضوعات پر بات چیت کی جاتی رہتی ہے۔ یاسر حسین کی جانب سے کراچی سے لاہور جاتے ہوئے جہاز کے اندر کی تصویروں کے ساتھ ایک خوبصورت پیغام بھی شیئر کیا گیا جس میں مسافروں کی جانب سے ایئر ہوسٹس اور ان کے پیشے کا احترام نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

Image Source: File

‘بینڈ تو باجے گا’کے اداکار نے ہوائی جہاز میں پاکستانی لوگوں اور “خاص طور پر مردوں” کے بارے میں اپنے مشاہدے پر پوسٹ شیئر کی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’آج فلائٹ میں، میں نے نوٹ کیا ہے کہ عوام خصوصاً مرد حضرات کو لگتا ہے کہ جہاز میں کام کرنے والی خواتین جو آپ کو ہزاروں فُٹ اوپر آسمان پر کھانا دیتی ہیں اور آپ کے جھوٹے برتن اٹھاتی ہیں وہ باپ کی نوکر ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔’

عموماً مسافر فلائٹ اٹینڈینٹ سے بات کرتے ہوئے شائستگی اور اخلاقیات کی مظاہرہ نہیں کرتے شاید اس لیے کہ وہ اس پیشے کی وجہ سے انہیں حقیر سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے یاسر حسین نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’تمیز سے بات کرنا سیکھیں، خدارا مختلف شعبوں کا احترام کریں۔‘

اداکار کی اس پوسٹ کو اداکارہ ریما خان اور فیشن ڈیزائنر ہمایوں عالمگیر نے ان کے خیالات کو سراہا۔ جبکہ ان کے فلوورز نے بھی ان کے خیالات کی تائید کی۔

مزید پڑھیں : یاسر حسین اور نوشین شاہ شادی میں شرکت کے معاملے پر پھر آمنے سامنے

یہ بات اکثر مشاہدے میں آتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ سروس انڈسٹری میں کام کرنے والے لوگوں کی قطعی عزت نہیں کرتا۔ اس حوالے سے چند دن پہلے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ریسٹورنٹ ٹیسٹ کِچن بائے اوکرا کے عملے کو ایک ماڈرن خاتون سے ماسک پہننے اور کورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ مانگنا مہنگا پڑ گیا ، خاتون نے اسٹاف سے بدتمیزی کی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

پہلے تو خاتون بغیر ماسک پہنے ریسٹورنٹ میں آئیں جس پر شیف نے ان سے ماسک پہننے کی درخواست کی جسے انہوں نے نظر انداز کیا اور اس کے بعد جب ان سے کورونا کا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ مانگا گیا تو خاتون غصے سے بھڑک اٹھیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ماسک پہنے ایک خاتون شیف پر چیخ رہی ہے جبکہ اس پوری کارروائی کے دوران ریسٹورنٹ کا عملہ خواتین سے کوئی بدتمیزی نہیں کرتا۔

علاوہ ازیں ، ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سروس انڈسٹری میں کام کرنے والے لوگوں کی عزت بھی اتنی ہی مقدم ہے جتنی کے کسی اہم عہدے پر فائز شخص کی۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے ہم اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں اور جس طرح فضائی سفر کے دوران یہ فضائی میزبان ہمیں ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں تو بالکل اس طرح ہم بھی ان کو عزت دیں اور ان کے ساتھ شائستہ ہونا سیکھیں

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago