SIUT
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک فسٹیولا 2026 کے موقع پر آغا حسن عابدی آڈیٹوریم میں ایک آگاہی تقریب منعقد کی گئی۔ اس سال کے عالمی پیغام ’’خواتین کی صحت اُن کا حق ہے: فسٹیولا اور زچگی سے ہونے والی پیچیدگیوں کے خاتمے کے لیے سرمایہ کاری کریں‘‘ کے تحت ماں اور بچے کی محفوظ صحت اور فسٹیولا سے پاک معاشرے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
ماہرین نے اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے آبسٹیٹرک فسٹیولا کی وجوہات، بچاؤ، علاج اور خواتین کی زندگیوں پر اس کے دیرپا اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ آبسٹیٹرک فسٹیولا زچگی کے دوران پیدا ہونے والی نہایت تکلیف دہ مگر بڑی حد تک قابلِ تدارک پیچیدگی ہے۔ یہ عموماً اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب طویل اور دشوار زچگی کے دوران خاتون کو بروقت طبی امداد، خصوصاً ایمرجنسی آپریشن (سیزیرین سیکشن) میسر نہ آ سکے۔ نتیجتاً پیدائشی راستے اور مثانے یا آنت کے درمیان بافتوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث پیشاب یا پاخانے کے غیر ارادی اخراج کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بیماری کا اثر صرف جسمانی تکلیف تک محدود نہیں رہتا بلکہ متاثرہ خواتین اکثر سماجی تنہائی، ذہنی اذیت، معاشرتی مسائل اور عزتِ نفس کی مجروح ہونےکا بھی سامنا کرتی ہیں۔ کئی خواتین ایک ایسی بیماری کے باعث معمول کی خاندانی اور سماجی زندگی جاری نہیں رکھ پاتیں جس کا بروقت علاج اور مؤثر بچاؤ ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 4 سے 5 ہزار خواتین زچگی کے دوران آبسٹیٹرک فسٹیولا کا شکار ہوتی ہیں۔ تاہم دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی بہت سی خواتین طویل فاصلے، سفری مشکلات، مفت ایمبولینس سروس کی عدم دستیابی اور تربیت یافتہ عملے کے بغیر گھریلو زچگیوں کے باعث بروقت اسپتال نہیں پہنچ پاتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تربیت یافتہ فسٹیولا سرجنز کی کمی کے باعث ہر سال صرف محدود تعداد میں خواتین علاج حاصل کر پاتی ہیں، حالانکہ بروقت سرجری نہ صرف بیماری کا علاج ممکن بناتی ہے بلکہ متاثرہ خواتین کی صحت، اعتماد اور امید بھی بحال کرتی ہے۔
ایس آئی یو ٹی پاکستان کے اُن چند اداروں میں شامل ہے جو عزتِ نفس کے ساتھ اعلی و معیاری بالکل مفت علاج فراہم کر رہے ہیں۔ جدید اور کم تکلیف دہ طبی طریقۂ علاج کے ذریعے ادارے میں اب تک ایک ہزار سے زائد فسٹیولا سرجریز انجام دی جا چکی ہیں۔ جبکہ صرف 2025 کے دوران 39 فسٹیولا آپریشنز کیے گئے، جن میں نوآپریشنزروبوٹک ویسیکووَیجائنل فسٹیولا ریپیئر بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، ایس آئی یو ٹی میں ہر جمعہ کو یورولوجی کلینک برائے خواتین بھی منعقد کیا جاتا ہے جہاں مریض خواتین کو ماہر طبی سہولتیں اور فالو اپ نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔
دریں اثنا، مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آبسٹیٹرک فسٹیولا کی روک تھام بہتر زچہ و بچہ صحت کی سہولتوں، بروقت ایمرجنسی طبی امداد، تربیت یافتہ دائیوں اور طبی عملے، دیہی زچگی مراکز اور مفت ایمبولینس نیٹ ورک کے ذریعے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ لہٰذا خواتین کی صحت میں سرمایہ کاری، دراصل ماؤں کی زندگیوں کے تحفظ اور زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگیوں کے خاتمے میں سرمایہ کاری ہے۔
عالمی یومِ فسٹیولا کے موقع پر ایس آئی یو ٹی نے محفوظ زچگی، خواتین کی صحت اور فسٹیولا سے پاک معاشرے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کا خاتمہ محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی حقوق، سماجی انصاف اور انسانی وقار کا معاملہ بھی ہے۔
تقریب میں ماہرینِ طب ایس آئی یو ٹی کے پروفیسر مرلی دھر، امریکہ کے پروفیسر محمد صہیب نظام، اسراء یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کی پروفیسر پشپا سری چند سچدیو، اور ڈاؤ یونیورسٹی کراچی کی پروفیسر رفعت جلیل شامل تھیں ،نے آبسٹیٹرک فسٹیولا کی وجوہات، روک تھام، علاج اور خواتین کی زندگیوں پر اس کے دیرپا اثرات پر اظہارِ خیال کیا۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…
پاکستان میں کینوا فار ایجوکیشن کے آفیشل پارٹنر ٹیک ویلی پاکستان نے مستقبل کے اساتذہ…