پاپ اسٹار ریحانہ نے بھارتی کسانوں کے حق میں آواز بلند کردی

بھارت میں زرعی اصلاحات کے معاملے پر کسانوں کا احتجاج چند ماہ سے جاری ہے اور ہزاروں کسانوں نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں دھرنے دے رکھے ہیں۔ اس احتجاج پر کچھ دن قبل وزیراعظم نریندری مودی نے پہلی بار عوامی سطح پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور اس احتجاج کو ملک کی بے عزتی قرار دیا۔

زرعی اصلاحات کے بارے بھارتی حکومت کے اقدامات اور رائے اپنی جگہ لیکن بھارتی کسانوں کے اس احتجاج پر عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ریحانہ بھی کسانوں کےحق میں بول پڑیں ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کسانوں پر تشدد سے متعلق مضمون کو ٹویٹ کرتے ہوئے امریکی گلوکارہ نے لکھا کہ “ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کرتے”۔

امریکی گلوکارہ نے ٹوئٹر پر بھارت میں جاری احتجاجی مظاہروں پر عالمی خبر رساں ادارہ سی این این کا ایک مضمون اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے کسانوں کے احتجاج کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ہے۔ یاد رہے کہ ریحانہ کے ٹوئٹر پر 10 کروڑ سے زیادہ فالورز ہیں امریکی گلوکارہ کا دہلی کی صورتحال پر ٹویٹ سامنے آتے ہی بی جے پی کے حامیوں کو جیسے آگ لگ گئی اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے امریکی پاپ اسٹار کو ملک کے اندرونی معاملے سے باہر رہنے کا کہہ دیا۔ یہ ردعمل اس قدر بڑھا کہ بھارت میں سوشل میڈیا پر ریحانہ ٹاپ ٹرینڈ بن گئیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ امریکی گلوکارہ کے اس موضوع پر اچانک ٹویٹ کرنے کی اصل وجہ کیا ہے کیونکہ جب سے انہوں نے ٹویٹ کیا ہے تب سے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج پر بین الاقوامی برادری کی حمایت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ریحانہ کی اس ٹویٹ کے چند گھنٹے بعد سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھونبرگ نے بھی سی این این کا وہی مضمون شیئر کیا اور انہوں نے بھی بھارتی کسانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

اس کے بعد دنیا بھر سے متعدد مشہور شخصیات بھی کسانوں کی حمایت میں کھڑے ہوگئے اور انہوں نے ریحانہ کے اقدام کو سراہا۔ ان شخصیات مین برطانوی ایم پی، امریکہ نائب صدر کی بھانجی مینا ہیرس، میا خلیفہ اور دیگر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ،گلوبل واچ ڈوگ ہیومن رائٹس واچ نے بھی کسانوں کے احتجاج پر ریحانہ کی ٹویٹ شیئر کی۔

دوسری جانب بھارت نے زرعی اصلاحات پر کسانوں کے جاری احتجاج پر بین الاقوامی مشہور شخصیات کی حمایت کو غلط اور غیرذمہ دار قرار دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں زرعی اصلاحات کے معاملے پر کسانوں کا احتجاج چند ماہ سے جاری ہے اور ہزاروں کسانوں نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں دھرنے دئیے اور 26 جنوری کے روز کسانوں اور پولیس کے مابین شدید تصادم بھی ہوا جس میں ایک کسان ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے۔ جب کہ اس دوران کسانوں نے نئی دلی کے لال قلعہ پر خالصتان کا جھنڈا بھی لہرایا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

6 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago