حکومت سعودی عرب نے سال 2021 حج پالیسی کا اعلان کردیا

ہفتے کے روز سلطنت سعودی عرب کی وزارت صحت اور حج نے رواں برس کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر حج سے متعلق اہم اعلان کردیئے، اس سال مجموعی طور پر 60 ہزار شہریوں کو حج کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ تمام سعودی شہری اور ملک میں مقیم افراد ہی حج کرنے کے اہل ہونگے۔

حج مسلمانوں کے 5 بنیادی ارکان میں شامل ہے، جو زندگی میں ایک مرتبہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر ادا کرنا فرض ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روائتی طور پر ہر سال حج کی ادائیگی کے لئے تقریباً 25 لاکھ کے قریب افراد مکہ مکرمہ اور مدینہ منور کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم پچھلے دو سال سے کورونا وائرس کے باعث حج اور عمرہ کی ادائیگی کو بہت محدود کر دیا گیا۔ یہ دوسرا سال ہے جب محدود افراد کی موجودگی میں حج ادا ہوگا۔

Image Source: Arab News

وزارت حج و عمرہ نے ہفتے کے روز اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ رواں برس مجموعی طور پر 60 ہزار شہریوں اور رہائش پزیر افراد کو حج کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ وزارت کی جانب سے اپنے اعلان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہش مند شخص کا کسی بھی لاعلاج مرض میں مبتلہ نہ ہونا، 18 سے 65 سال کے درمیان ہونا اور حکومت سعودی عرب کی ویکسینیشن پالیسی کے مطابق اسٹینڈرڈ ہونا ضروری ہے۔

ٹوئیٹر پر جاری بیان میں سعودی وزارت حج کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی وباء کے زیر اثر ہے، اس دوران وباء میں نئے تغیرات بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ لہذا رواں حج کی رجسٹریشن صرف سعودی شہریوں اور ملک مقیم غیر ملکی شہریوں تک ہی محدود رکھی گئی ہے۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ حج کی انہیں افراد کو دی جائے گی، جن ویکسینیشن ہوچکی ہے، یا پھر جنہیں ویکسین کی ایک ڈوس لگوائے ہوئے، چودہ روز کا عرصہ ہوچکا ہے یا پھر وہ لوگ جنہیں کورونا وائرس ہوچکا ہے اور انہوں نے ویکسینیشن کروالی ہے۔

سعودی وزارت حج کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ مملکت کے مستقل خواہش پر مبنی ہے کہ وہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کو آنے والے زائرین کے لئے حج اور عمرہ کی رسومات ادا کرنے کے لئے کھولیں۔ تاہم اس وقت حکومت کی پہلی ترجیح صحت اور حفاطت ہے۔

واضح رہے گزشتہ برس بھی کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر، حکومت سعودی عرب کی جانب سے محض 1 ہزار افراد کو حج کی اجازت دی تھی۔ جس میں سعودی شہری ،سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی شہری، پیرا میڈیکل اسٹاف اور سیکورٹی پر مامور افراد ہی آج ادا کرسکے تھے۔

یہی نہیں گزشتہ حکومت سعودی عرب کی جانب سے نئے حج پروٹوکول بھی تیار کئے گئے تھے، جس میں خانہ کعبہ چھونے اور چومنے کی اجازت نہ دینے سمیت، حاجیوں کے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ آٹھنے بیٹھے اور ملنے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

یہ بحیثیت مسلمان سب کے لئے انتہائی غم اور افسوس کا لمحہ ہے، کیونکہ حج مسلمانوں کا سب سے بڑا مزہبی اجتماعی ہوتا ہے، جہاں جانا سب کی خواہش ہوتی ہے کہ ایک بار اس جگہ دیدار نصیب ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ جلد از جلد پھر سے اس جگہ کی پرانی رونقیں بحال کردے۔ آمین

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago