ہولی فیملی اسپتال کی ڈاکٹر کو ٹیکنیشن کیجانب سے ہراسگی کا سامنا

یہ ایک حقیقت ہے کہ جنسی ہراسانی کے خلاف قانون ہوتے ہوئے بھی دفاتر ،اسکول ، یونیورسٹی ،اسپتال غرض ہر جگہ خواتین کے ساتھ ہراسانی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ تاہم اگر ایسے واقعات منظر عام پر آجائیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائیں تو ملزم کو پکڑلیا جاتا ہے، معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انکوائری کمیٹی مقرر ہوتی ہے اور اس کے بعد معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ملزمان کے حوصلے بڑھ رہے ہیں۔

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے لیڈی ڈاکٹر ایک مردسے بچنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ اس کا راستہ روک رہا ہے بلکہ داخلی دروازہ بھی بند کردیتا ہے اور اسے واپس اندر جانے کا کہہ رہا ہے۔ جب کہ وہاں پر موجود دیگر مرد تماشائی بنے ہوئے ہیں اور کوئی خاتون کی مدد نہیں کررہا۔ اس ویڈیو میں نظر آنے والا شخص دراصل اسپتال کا لیب ٹیکنیشن ہے۔

Image Source: Screengrab

ذرائع کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے اس واقعہ کا ویڈیو ثبوت ہونے کے باوجود لیب ٹیکنیشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کے مطابق اس شخص کا نام ہمدانی ہے اور وہ اس سے پہلے بھی دوبار اسے ہراساں کرچکا ہے۔ تاہم شکایت پر اس سے قبل بھی اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن پھر اسے رہا کردیا گیا تھا جب کہ واقعے کا قصوروار متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو ہی قرار دیا گیا تھا ۔

دوسری جانب ،سوشل میڈیا پر نامور اسپتال میں ہراسانی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کی یہ ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر یس آل مین کا ہیش ٹیگ ٹرینڈنگ پر ہے۔ صارفین ملزم کے خلاف کارروائی پر آواز بلند کر رہے ہیں۔

خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہو رہے ہیں بلکہ اس کے خلاف پوری دنیا میں آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر ممالک تک جنسی ہراسانی کی کہانیاں منظر نامے پر آتی رہتی ہیں۔ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف #می ٹو جیسی مہم چلتی رہتی ہیں اور کافی حد تک ان جیسی آگہی کی مہمات کی شروعات سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر کچھ دن رہ کر خاموش ہو جاتیں ہیں۔ میڈیا پر جنسی استحصال کی مہم چلنے پر خواتین کو حوصلہ ملتا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں اور ملوث ملزمان کو سخت سزائیں دلوائیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ یہ ملزمان تھوڑے دن تھانے میں گزار کر باہر نکل آتے ہیں اور پھر کوئی اور ان کی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے۔

حالیہ دنوں میں کراچی کی مصروف ترین شاہراہ شارع فیصل پر ایک خاتون ٹیچر کو ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ٹیچر نے فیس بک پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین اوباش لڑکوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں جنہوں نے انہیں راستے میں ہراساں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ لڑکے دیدہ دلیری سے ان کے رکشے کا پیچھا کرتے رہے اور چھیڑ چھاڑ، آوازیں کسنےکے ساتھ انہیں اشارے بھی کرتے رہے۔ ٹیچر نے ان لڑکوں کی ویڈیو بنائی اور اپنی پوسٹ میں اس ویڈیو کو وائرل کرنے کی درخواست بھی کی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ان اوباش لڑکوں کو گرفتار کرلیا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago