سیگریٹ نوشی کرنے والوں میں خواتین کی تعداد بڑی ہے، نوشین حامد

پاکستان میں خواتین کی سگریٹ نوشی ہمیشہ سے ایک متنازعہ موضوع رہی ہے۔ اس سے ان کی شخصیت کو جوڑا جاتا رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ ہمارا جنس پرست معاشرہ یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ سگریٹ نوشی نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ لیکن یہاں بحث یہ ہے کہ عورت سگریٹ کیسے پی سکتی ہے؟ اس سے ان کی عزت اور وقار کیسے جڑا ہے۔

تمباکو نوشی کے اہم اثرات میں سانس کے مسائل، پھیپھڑوں کا کینسر اور قوت مدافعت سے متعلق مسائل شامل تھے لیکن حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ایک رکن اسمبلی کے مطابق ملک میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ بھی تمباکو نوشی ہو سکتی ہے۔ ، بشرطیکہ تمباکو نوشی کرنے والی خواتین ہوں۔

Image Source: Unsplash

تفصیلات کے مطابق منگل کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) ڈاکٹر نوشین حامد نے دعویٰ کیا کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی طلاق ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر نوشین حامد کا مزید کہنا تھا کہ خواتین میں سگریٹ نوشی ملک میں طلاق کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تمباکو کے استعمال سے متعلق ایک سیشن میں انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کی شادیاں اور پھر جلد طلاق ہو جاتی ہیں کیونکہ انہیں سسرال والے قبول نہیں کرتے ہیں۔

Image Source: Twitter

پی ٹی آئی ایم این اے نوشین حامد نے بتایا کہ گزشتہ چند سالوں میں سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمباکو نوشی کرنے والوں اور ان کے خاندان دونوں کے لیے متعدد سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔” ’’وہ ذاتی طور پر ایسی خواتین کو جانتی ہیں۔‘‘

دریں اثناء وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نے نشاندہی کی کہ سگریٹ نوشی کرنے والے ہر پانچ افراد میں سے آج دو خواتین ہیں۔

واضح رہے تمباکو نوشی مہلک چیز ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مرد ہو یا عورت، اگر آپ کے پھیپھڑے ہیں تو یہ یقینی طور پر آپ کو مار ڈالے گا۔ لہذا اب وقت آ گیا ہے ک معاشرے کی طرف سے لگائے گئے جنس پرستی کا داغ کو ختم کیا جائے اور لوگوں کو حقیقی معنوں آگاہی فراہم کی جائے کہ یہ چیز ان کے لئے کس حد تک خراب ہے؟

جب تمباکو نوشی کی بات آتی ہے تو ہمارے پاس امتیازی سلوک کی ایک تاریخ ہے۔ ایک عورت کو اس معاشرے میں خود کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ دوہرے معیارات اس حد تک غالب رہتے ہیں کہ عورت کا سیگریٹ پینا ایک عیب اور مرد کا پینا شوق تصور کیا جاتا ہے، صحیح معنوں میں بات کریں تو پھیپڑوں کے کینسر سمیت کئی بیماریوں کی وجہ صرف سیگریٹ نوشی ہے اور وہ جسم میں داخل ہونے سے قبل نہیں پوچھتی کہ یہ مرد کا جسم ہے یا عورت کا جسم ہے۔ نقصان دونوں کو ہی یکساں ہیں۔

اس حوالے سے اگر دوسرے پہلوں پر بات کی جائے تو محض سیگریٹ کی بنیار پر عورت کے کردار یا اخلاقیات کو تولنا یقیناً ناانصافی ہے، ہمارے یہ پیمانے مردوں کے لئے نہیں ہیں، ہم محض اس بات کی بنیاد پر اچھے، برے مرد کا تصور پیدا نہیں کرتے لیکن افسوس ہم اس بات پر اچھی، بری عورت کا تصور ضرور پیدا کرتے ہیں۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر اداکارہ ماہرہ خان کی رنبیر کپور کے ساتھ سیگریٹ نوشی کرتے ہوئے تصویر وائرل ہوئی تھی، اگرچے اس دونوں فنکار ہی سیگریٹ نوشی کر رہے تھے، لیکن تنقید کا مرکز محض ماہرہ خان کو ہی بنایا گیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago