فزیکل امتحانات کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس ایکشن

جمعرات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد کے دفتر کے باہر جاری طلباء کے احتجاج کے خلاف پولیس کا ایکشن، کاروائی کے دوران کئی طلباء کو حراست میں لے لیا گیا۔ طلباء میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ایچ ای سی دفتر کے باہر امتحانات کے خلاف احتجاج جاری تھا، جہاں طلباء کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور امتحانات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

احتجاج میں بیٹھے طلباء کی جانب سے موقف اپنایا گیا ہے کہ انہیں کورس آن لائن کلاسز میں پڑھایا گیا ہے۔ لہذا وہ آنے والے امتحانات کی اچھی تیاری کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ چنانچہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود ان کے مطالبے کو مانیں یا پھر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔ اس موقع پر طلباء کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ان کے مطالبات نہیں مان لئے جاتے ہیں۔

دوسری جانب پولیس کی بھاری نفری کو احتجاج مقام پر کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔ جہاں پولیس نے مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے نائن ایونیو جانے والی سڑک کو بند کردیا گیا تھا بعدازاں پولیس سڑک کو خالی کرانے کے لئے مظاہرین کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا اور جس میں کئی طلباء کو حراست میں لے لیا گیا۔

تاہم پولیس کی جانب سے تمام گرفتار طلباء کو رہا کر دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم سب کے علم میں ہے، پاکستان سمیت پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ اس وباء کے باعث زندگی کے مختلف شعبہ جات جہاں متاثر ہوئے ہیں وہیں تعلیم سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ تاہم پچھلے ڈیڑھ سال سے تعلیمی ادارے بچوں کے لئے آن لائن کلاسز کا انعقاد کر رہے ہیں لیکن امتحانات کے لئے بیشتر کیمپسس ظاہری امتحانات کا انعقاد کر رہے ہیں۔ جسے طلباء اپنے ساتھ ایک زیادتی قرار دیتے ہیں۔

یاد رہے رواں برس مئی میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے طلباء کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ جس میں انہوں یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ امتحانات کا انعقاد آن لائن کروایا جائے۔ بعدازاں پولیس کی جانب سے طلباء لاٹھی چارج کیا گیا تھا اور کئی طلباء کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اس موقع پر طلباء نے ناصرف امتحانات کے طریقے کا پر اعتراض اُٹھایا تھا بلکہ طلباء کا مطالبہ تھا کہ یونیورسٹی کئی ماہ سے بندش کا شکار ہے، آن لائن کلاسز ہو رہی ہیں، لہٰذا انتظامیہ یونیورسٹی کی ٹیوشن فیس میں کٹوتی کرنی چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ بار بار امتحانات کے طریقے کار میں تبدیلی کو طلباء کی جانب سے رد کردیا گیا تھا۔

طلباء نے حکومت اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے خلاف نعرے بلند کئے۔ اس کے برعکس یونیوسٹی انتظامیہ نے طلباء کے مطالبات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹیز کو ظاہری امتحانات لینے کی اجازت دے رکھی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

6 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago