پیناڈول مارکیٹ سے غائب ہونے پر مونس الہٰی کی حکومت پر کڑی تنقید

ملک بھر میں بخار کی گولی پیناڈول کی اچانک قلت پیدا ہوگئی ہے اور یہ ہر میڈیکل اسٹور پر دستیاب نہیں، جن پر دستیاب ہے وہاں لوگوں کو مہنگی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گزشتہ حکومت میں پیناڈول کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔ دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) کی بخار اور معمولی درد کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی پیناڈول کی پیداوار ایک ماہ قبل روک دی تھی جس کے باعث  پیناڈول مارکیٹ میں شارٹ ہونا شروع ہوگئی ہے۔

Image Source: File

کراچی اور لاہور سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں پیناڈول کی گولی میڈیکل اسٹورز پر دستیاب نہیں ہے۔ عام استعمال کی دوا کی قلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب ملک بھر میں غیر متوقع بارشوں اور سیلاب کے باعث ڈینگی اور ملیریا سمیت وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

Image Source: File

پینڈول کی عدم دستیابی پر مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری مونس الہٰی نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مونس الہٰی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ لیجیے مہنگے بجلی، گیس، تیل، آٹا، دالوں،سبزیوں، گھی وغیرہ سے تنگ غریب عوام اب سیلاب اور ڈینگی کے دوران پیناڈول جیسی بنیادی دوا کی شارٹیج اور بلیک کا بھی شکار ہوگئے۔انہوں نے مزید لکھا کہ اس گولی باز شہبازحکومت کے پاس نہ مہنگائی کا علاج ہے نہ عوام کے کسی درد کی دوا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد صارفین بخار، سر درد اور ویکسی نیشن شاٹ کے نتیجے میں ہونے والے   درد کے علاج کے لیے پیناڈول کا استعمال کرتے ہیں، جب کہ کمپنی ماہانہ پینا ڈول کی 4.5 کروڑ گولیاں تیار کرتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا  ہے کہ پیناڈول کی مقامی گولیاں جعلی ہیں جبکہ پیناڈول ایکسٹینڈ امپورٹڈ اور اصلی ہیں۔پاکستان میں دواؤں کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے پیناڈول کی فی گولی 2.67 روپے میں فروخت کرنے کی منظوری دی تھی تاہم وفاقی کابینہ نے ڈریپ کی سمری مسترد کرتے ہوئے پیناڈول کی فی گولی 1.35 وپے میں فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔

مزید پڑھیں: پانی سے پھیلنے والی واٹر بارن ڈیزیز کیا ہیں؟ اور یہ کیسے پھیلتی ہیں؟

اس سلسلے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ دوا نقصان میں نہیں بیچ سکتے۔ جبکہ پاکستان فارماسیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے بھی ایک بیان میں کہا کہ مینوفیکچرر پیداواری لاگت سے کم پر دوا فروخت نہیں کرسکتا۔

دوسری جانب، محکمہ صحت پنجاب نے جان بچانے والی ادویات سمیت ادویات کی قلت سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔محکمہ نے بخار کی دوائی سمیت زندگی بچانے والی دوائیوں کی پیداوار روکنے سے متعلق رپورٹس کو بھی مسترد کردیا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پینا ڈول کی قلت سے صوبائی حکومت کاکوئی تعلق نہیں، اسکی ذمے دار ڈریپ ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago