ایک پاکستانی نے چار نہیں چھ خانوں والا لڈو تیار کر لیا

لال، پیلے، نیلے اور ہرے رنگ کے خانوں پر مشتمل “لڈو “کھیلنا کون نہیں جانتا؟ تقریباً ہر گھر میں ہی لڈو موجود ہوتا ہے اور فارغ اوقات میں گھر کے بچوں سے لے کر بڑوں تک سبھی اسے شوق سے کھیلتے ہیں۔ اس گیم کی شہرت اس قدر زیادہ ہے کہ باقاعدہ موبائل فون پر بھی “لڈو اسٹار “ کے نام سے یہ گیم موجود ہے جسے دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ آن لائن کھیلا جاسکتا ہے ،لڈو اسٹار کے پیچھے بھی بچے بڑے دونوں ہی دیوانے ہیں۔

لیکن ایک پاکستانی نے چار خانوں والے لڈو کے گیم کو تبدیل کردیا ہے اور انہوں نے چار خانوں والے لڈو کو اب چھ خانوں والا لڈو بنا دیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر طائف میں مقیم پاکستانی عبدالرزاق نے چھ کھلاڑیوں کے کھیلنے والا لڈو تیار کیا ہے جو عام لڈو کی طرح دو ڈائس سے کھیلا جاتا ہےاور اسے کھیلنے کے لئے چھ کھلاڑی درکار ہوتے ہیں۔

چار خانوں والے لڈو کے روایتی گیم کو چھ خانوں میں منتقل کرنے کا خیال کیسے آیا؟؟ اس بارے میں خبر رساں ادارے اردو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے محمد عمران نے بتایا کہ یہ خیال ہمیں لڈو کھیلنے سے آیا کیونکہ ہم چھے دوست ہیں، جب چار لڈو کھیلتے تو دو بیٹھے بور ہوتے تھے تو میرے چچا عبدالرزاق نے چھ خانوں والا لڈو بنانے کا آئیڈیا دیا تاکہ اس طرح تمام دوست مل کر گیم کھیل سکیں اور اسے کھیلنے میں ٹائم بھی زیادہ لگے۔

اپنے چچا کے آئیڈیے سے انہوں نے چھ خانوں والا یہ لڈو گیم کیسے بنایا؟ عمران بتاتے ہیں کہ اس چھ خانوں والے لڈو کو حتمی شکل دینے کے لئے ہم نے اس گیم کا پینا فلیکس والے سے ڈیزائن تیار کروایا۔ اس کے بعد ویلڈر سے لوہے کا ایک فریم تیار کرایا پھر پینا فلیکس لگانے کے لئے لکڑی کا تختہ لیا اور تمام چیزیں جوڑ کر چھ خانوں والا یہ لڈو تیار کر لیا اور اسے کھیلنا شروع کیا۔

اس منفرد لڈو کو عام لڈو کی طرح دو ڈائس سے ہی کھیلا جاتا ہے جبکہ اسے کھیلنے کے اصول اس پر درج ہیں۔ محمد عمران نے بتایا کہ اس چھ خانوں والے لڈو کو کھیلنے میں کم از کم دو گھنٹے لگتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لڈو سے اب ہم سب دوست مل کر ایک ساتھ کھیل پاتے ہیں اور یوں ہمارا اچھا ٹائم پاس ہوجاتا ہے۔

بلاشبہ پاکستانی باصلاحیت ہیں، اس حوالے سے یہ یاد رہے کہ رواں سال دو پاکستانی بچوں 13 سالہ نبھان اور 14 سالہ کنعان نے کورونا وائرس کے خلاف عوام خصوصاً بچوں میں شعور اجاگر کرنے اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے وڈیو گیم بنایا جس کے ذریعے کھلاڑی کھیل ہی کھیل میں کوویڈ-19کی وباء سے بچاؤ کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے راحیل اقبال 500 سے زائد ویڈیو گیمز بنا چکے ہیں اور دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔راحیل اقبال کے گیمز کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ ان گیمز میں فارم ڈے ولیج، کوکنگ ڈے اور گن شوٹنگ گیم شامل ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago