لاہور کے پیکجز مال کی پارکنگ میں خاتون کو ہراساں کرنے والے شخص کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ، ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر ویڈیو بنائی جبکہ اس ویڈیو کی وجہ سے اسے نوکری سے بھی فارغ کردیا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک خاتون کی طرف سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں انہوں نے ایک شخص کو گاڑی میں بیٹھے ہوئے دیکھایا اور بتایا کہ یہ شخص ان کا پیچھا کر رہا تھا اور ان سے نمبر مانگ رہا تھا۔ اس ویڈیو میں خاتون کہتی ہیں کہ یہ منظر آج 14 جون کو پیکجز مال پارکنگ کا ہے، یہ شخص میرا پیچھا کر رہا تھا اور مجھے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کو کہہ رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے میرا نمبر بھی مانگ رہا تھا، یہ خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ پیکجز مال آئیں تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب میں اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور اس شخص کو بے نقاب کرنے کے لئے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کرنے لگی تو اس نے اپنا چہرہ چھپانا شروع کردیا اور اپنی گاڑی بھگا دی۔
لیکن اب اس واقعے نے دوسرا رخ اختیار کرلیا ہے کیونکہ اس شخص کی بیوی نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے ، جس میں اس شخص جو کہ ان کے شوہر ہیں ، نے خاتون کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو بے بنیاد اور ویڈیو کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ اس ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ خاتون کی کار سے ان کی کار کی غلطی سے ٹکر ہوگئی جس پر خاتون طیش میں آگئیں ، انہوں نے معذرت بھی کی لیکن خاتون نے کہا کہ تم سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہو ،تم میرا پیچھا کر رہے تھے اور پھر وہ میری ویڈیو بنانے لگیں۔ اس ویڈیو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے گھر کا واحد کفیل ہوں اور اس واقعے کی وجہ سے مجھے میری کمپنی نے ملازمت سے نکال دیا ہے۔
علاوہ ازیں ، اس پوسٹ میں اس شخص کی بیوی نے بھی یہ لکھا ہے کہ میرے شوہر پر اس خاتون نے کار کی معمولی سی ٹکر پر بے بنیاد الزام لگائے جبکہ میرے شوہر نے ان خاتون سے معذرت بھی کرلی تھی۔ اس واقعے کی وجہ سے میرے شوہر کی نوکری بھی چھن گئی ہے ۔میری درخواست ہے کہ پیکجز مال سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے معاملے کی جانچ پڑتال کی جائے۔
اس معاملے کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ کون صحیح اور کون غلط ہے یہ بات تو حقائق ہی بتاسکتے ہیں ۔لیکن یہ تو سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خاتون چاہے ملازمت کے لئے گھر سے نکلیں یا پھر ضروری کام کی غرض سے انہیں ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ دنوں اسلام آباد کے فیصل ٹاؤن روڈ پر موٹر سائیکل پر سوار ایک لڑکی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ جب مبینہ طور پر تین لڑکوں نے ہراساں کیا اور اس کی موٹر سائیکل پر سوار لڑکی کی تصاویر کھیچنے لگے لیکن کار میں سوار ایک شخص نے ان لڑکوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے انہیں بے نقاب کردیا۔
مزید پڑھیں: خاتون مسافر کا کھلم کھلا ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام عائد کرنے کی کوشش
افسوس کے آج کے معاشرے میں بھی ہماری خواتین کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،جیسے کہ عصمت دری سے لے کر غیرت کے نام پر قتل ،صنفی امتیاز سے لے کر گھریلو تشدد تک ،پاکستانی خواتین آج بھی حالات کی ان ستم ظریفیوں میں پس رہی ہیں ۔
جہاں تک بات رہی پاکستان میں ہراساں کرنے کے قوانین کی تو خواتین کو ملازمت کے لئے ایک محفوظ ماحول کی فراہمی کے لئے 2010 میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ایک پروٹیکشن بل منظور کیا گیا تھا۔ لیکن تاحال حکومت نے کوئی ایسا قانون پاس نہیں کیا ہے جو خواتین کو سڑکوں ، پبلک ٹرانسپورٹ ، اسکول ویونیورسٹی اور شاپنگ مالز میں ہراساں ہونے سے بچا سکے۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…