نور مقدم قتل کیس: ذاکر جعفر کی احاطہ عدالت کے باہر پیسے دینے کی ویڈیو وائرل

نور مقدم قتل کیس میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت میں اتوار کو ایک ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کو عدالت کے باہر ایک بوڑھے شخص کو پیسے دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس پر سوال اٹھایا جارہا ہے کہ وہ اس قابل کیسے ہوسکتے ہیں کہ حراست میں ان پر کسی کے کوئی پیسوں کا معاملہ ہو۔

تفصیلات کے طابق عدالت عظمیٰ نے ماضی قریب میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی کی جانب سے بیل کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانت منظور کرلی تھی۔ تاہم عدالت نے والد کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔

Image Source: File

گیارہ اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے استغاثہ کو عصمت آدم جی کے خلاف ثبوت جمع کرنے کی ہدایت کی تھی اور ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ اس کیس میں عصمت آدم جی کا کردار “ثانوی” تھا۔

دریں اثنا، مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے اپنے والد سے، جو کہ 20 جولائی کو وقوعہ کے روز کراچی میں تھے، ان کا مجرم سے چار بار رابطہ ہوا تھا۔ تفتیشی رپورٹس کے تحت نور مقدم کو قتل کرنے اور سر قلم کرنے سے پہلے اپنے والد کو دوپہر 2:21، 3 بجے، 6:35 اور شام 7:29 مجرم نے والد کو کالیں کی تھیں۔ اس دوران والد ذاکر جعفر نے نور مقدم کی لاش کو ٹھکانے لگانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

Image Source: File

حال ہی میں ’جسٹس فار نور‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جو مقتول کے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے اس کی یاد میں چلایا جانے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے، اس میں ذاکر جعفروکو عدالت کے احاطے میں ایک بوڑھے شخص کو ہتھکڑیاں لگا کر نقد رقم دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ “ذاکر جعفر لوگوں کو پیسے دے رہے ہیں جبکہ انہیں کوئی نقد رقم رکھنے کی اجازت نہیں ہے،”۔ “انہیں اس کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے؟ یہ غیر قانونی ہے! آپ قانون کے بارے میں پڑھنے کے لیے دائیں طرف سوائپ کر سکتے ہیں۔ مجھے حیرت میں ڈالتا ہے کہ وہ اپنے استحقاق کو خریدنے کے لئے کیا استعمال کر رہا ہے!

اس ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی اس پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سوال کیا ہے کہ زیر حراست شخص کو نقد رقم رکھنے کی اجازت کیسے ہے، اور اگر اس کے پاس فنڈز تک رسائی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے جیل میں بھی آسائشوں تک رسائی حاصل ہے؟

ااس موقع پر ایک صارف نے لکھا “کیا مذاق ہے! ایسا لگتا ہے کہ وہ جیل نہیں جا رہا ہے بلکہ سیر کے لیے جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے مرکزی ملزم کو پیکج (تحفہ) بھیجا تھا۔ اس میں ظاہر کے لیے کتابیں، پرفیوم، کپڑے اور شیمپو موجود تھے۔ امریکی سفارت خانے نے سفارتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تاہم اڈیالہ جیل حکام نے مبینہ طور پر پیکج واپس کر دیا تھا۔

Image Source: File

واضح رہے گزشتہ ماہ استغاثہ کی جانب سے عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی ریکارڈنگ جمع کرائی تھی، جس میں قتل سے قبل پیش آنے والے واقعات اور مناظر صاف دیکھے گئے تھے۔ متاثرہ لڑکی نے مرکزی ملزم کے گھر کی پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن عملے نے اسے احاطے سے باہر جانے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے نور مقدم قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی علاوہ ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی، تین ملازمین اور نو تھراپی ورک ملازمین بھی نامزد ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago