مفت میں برگر دو ورنہ جان کا خطرہ محافظ بدمعاش بن گئے

پولیس شہریوں کی محافظ ہوتی ہے اور اس کا کام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن ہمارے ملک میں تو عوام پولیس اہلکاروں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کراچی کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار دھڑلے سے ڈھابے والے سے برگر خرید کر مبینہ طور پر رقم ادا کئے بغیر جانے لگتا ہے۔ اس دوران جب نوجوان پولیس اہلکار کو برگر کے پیسے دینے کا کہتا ہے تو وہ پہلے اسے گالیاں دیتا ہے پھر دھمکی دیتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ “ادھر ہی شوٹ کردوں گا۔”

غریب ڈھابے والے کے ساتھ پولیس کی اس بدمعاشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ایک صارف نے شیئر کی تاکہ عوام یہ دیکھ سکیں کہ کیسے پولیس اہلکار اپنی وردی کے زور پر پہلے برگر آرڈر کرتا ہے پھر ادائیگی کرنے کی زحمت کئے بغیر جانے لگتا ہے اور جب ڈھابےوالا اس سے رقم ادا کرنے کو کہتا ہے تو وہ الٹا اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے ڈالتا ہے۔

Image Source: Facebook

عالمی وباء کورونا کی وجہ سے ہر کوئی مالی مشکالات سے دوچار ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے سبھی کی نوکری اور کاروبار متاثر ہوئے ہیں لیکن غریب طبقے کے لوگ اس وقت شدید مالی تنگی کا سامنا کررہے ہیں۔ چنانچہ اس مشکل وقت میں پولیس اہلکار کا مفت میں برگر لینا اور پھرآپے سے باہر ہوجانا غلط فعل ہے۔ اس ویڈیو کے آخر میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ برگر فروخت کرنے والا نوجوان کہتا ہے کہ یہ اہلکار روزانہ آتا ہے اور بغیر ادائیگی برگر خرید کر چلا جاتا ہے۔ وہ ایک غریب آدمی ہے لہٰذا انتظامیہ کو ایسے اقدامات کی روک تھام کرنی چاہیئے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ وردی میں یہ پولیس اہلکار اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کوئی شہر کوئی علاقہ اٹھا لیں یہ پولیس اہلکار تو غریب پھل اور سبزی فروشوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اس کے علاوہ عموماً اکثر پولیس اہلکار ڈھابوں پر بیٹھے چائے پیتے یا کھانا کھاتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ان میں سے کئی تو بل کی ادائیگی کرنا اپنے لئے باعث توہین سمجھتے ہیں اور مفت کا مال خوب دل بھر کر کھاتے ہیں ۔پچھلے مہینے بھی کراچی میں پولیس اہلکار نے پیزا ڈیلیور کرنے والے ایک لڑکے کو روک لیا اور اس سے پیزا لے کر خود کھالیا، کوئی ان اہلکاروں کی ناجائز حرکتوں پر نوٹس لینا والا نہیں!

یہی نہیں بلکہ ابھی کچھ عرصہ قبل لاہور پولیس کا بہن بھائی کے ساتھ ہتک آمیز رویہ سامنے آیا جس میں بہن بھائی کو سڑک پر سر عام کان پکڑوا کر اٹھک بیٹھک کروائی گئیں۔ ان بہن بھائی کو کان پکڑوا کر سزا دینے کی فوٹج بھی سامنے آئی۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ہم بہن بھائی فیکٹری ملازم ہیں اور گھر جارہے تھے، غریب لوگ ہیں کیا کر سکتے ہیں، لڑکے کا کہنا تھا کہ پولیس نے سوئٹر بھی اترا لیا، دونوں بہن بھائیوں نے کہا کہ شناختی کارڈ نا نکلنے پر پولیس ہمیں تھانے لے گئی اور تشدد کیا۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے اسلحے کے زور پر اس طرح کے ناجائز اقدامات کی فوری طور پر روک تھام ہونی چاہئیے تاکہ غریب عوام مزید ذہنی اذیت کا شکار نہ ہو۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago