کراچی، پاکستان – 28 جولائی 2025 : آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ (AKU-EB) نے آج سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (SSC) اور ہائیر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (HSSC) کے سالانہ امتحانات 2025 کے نتائج کا اعلان کیا جس میں ایک قابلِ ذکر رجحان سامنے آیا، لڑکیوں نے مسلسل دسویں سال بھی ممتاز طلبہ کی فہرست میں سبقت حاصل کی۔ اس سال 111 اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں سے تقریباً 70 فیصد لڑکیاں ہیں، جو ان کے غیر متزلزل عزم اور ملک گیر بڑھتی ہوئی امنگوں کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ مسلسل کامیابی تعلیمی مہارت میں ایک اہم تبدیلی کو اجاگر کرتی ہے، جہاں نوجوان لڑکیاں عمدگی کے نئے معیار قائم کر رہی ہیں۔ سندھ سے شونزے زہرا (ثاقب پبلک اسکول، کراچی) نے SSC سطح پر قومی پوزیشن حاصل کی، جبکہ عائشہ زاہد حسین (آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول، کریم آباد، کراچی) نے HSSC سطح پر قومی درجہ بندی میں اول پوزیشن حاصل کی۔
شونزے زہرا نے کہا ” AKU-EB کی جانب سے طے کردہ لرننگ آؤٹ کمز واضح اور گہرے فہم کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہااس وضاحت نے نہ صرف میری تعلیمی بنیاد کو مضبوط کیا بلکہ مجھے اپنی اصل دلچسپی کلینیکل سائیکالوجی دریافت کرنے میں بھی مدد دی۔عائشہ زاہد حسین، جو نیورو سائنس اور مصنوعی ذہانت پر توجہ کے ساتھ طب کی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، نے کہا”یہ ایک تبدیلی لانے والا سفر رہا ہے جس نے نہ صرف میرے علم بلکہ میرے اندازِ فکر کو بھی شکل دی ہے۔”
آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی تعلیمی عمدگی، جدید اندازِ امتحان اور اسکولوں کی معاونت پر توجہ نے اسے پاکستان بھر کے اسکولوں کے لیے ایک قابلِ قدر شراکت دار بنا دیا ہے۔ ثاقب پبلک اسکول، کراچی کی پرنسپل عائشہ علوی نے AKU-EB کو ایک “تعلیمی ساتھی” قرار دیا جو مسلسل جدید امتحانی نظام اور اساتذہ کی تربیت کے ذریعے معیار کو بہتر بناتا ہے۔
ہر سال SSC اور HSSC کے لیے دو قومی پوزیشنز کے علاوہ بورڈ صوبائی سطح پر مجموعی پوزیشنز، گروپ کی بنیاد پر پوزیشنز اور مضمون وار امتیازات کا بھی اعلان فخر کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ کامیابیاں AKU-EB کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتی ہیں جو کہ شفافیت، غیر جانب داری اور طلبہ کی ترقی پر مبنی معیاری تعلیم پر مرکوز ہے۔
AKU-EB کے CEO ڈاکٹر نوید یوسف نے کہا”شفاف اور منصفانہ امتحان ہمارا وعدہ ہے۔ اچھی تعلیم وہ ہے جو طلبہ کو تیزی سے بدلتی دنیا کے لیے تیار کرے جہاں لچک، تنقیدی سوچ، اور مزاحمت کی صلاحیت لازمی ہے۔ اسکول اس سفر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں وہ مضبوط رہنمائی فراہم کرتے ہیں جو طلبہ کو نہ صرف تعلیمی لحاظ سے ممتاز بناتی ہے بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔”
AKU-EB کی مہارت پر مبنی تعلیم اور منصفانہ امتحان پر توجہ نے قابلِ ذکر نتائج دیے ہیں، جہاں اس کے 92 فیصد فارغ التحصیل طلبہ نے قومی اور بین الاقوامی جامعات میں داخلہ حاصل کیا۔ کئی طلبہ پاکستان کی اعلیٰ جامعات جیسے آغا خان یونیورسٹی، LUMS، NUST، اور IBA میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ دیگر دنیا بھر میں 200 سے زائد جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یوں نہ صرف اپنے بلکہ اپنی کمیونٹیز کے لیے بھی روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر ہنہ ویلجی، پرنسپل AKHSS کراچی نے کہا “تعلیم کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ طلبہ کتنا یاد رکھ سکتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ سیکھے ہوئے علم کی تشریح، سوال اور اس پر عمل کیسے کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاجب تدریس مقصد کے تحت ہو اور امتحان گہری سمجھ کی عکاسی کرے تب ہم طلبہ کو صرف امتحانات ہی نہیں بلکہ زندگی کے لیے تیار کرتے ہیں۔”
AKU-EB سے منسلک اسکول پاکستان کے متنوع خطوں پر پھیلے ہوئے ہیں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑوں سے لے کر خیبر پختونخوا اور پنجاب کے میدانوں، اور سندھ کے شہروں اور قصبوں تک۔ 2025 کے سالانہ AKU-EB امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اسکولوں میں شامل ہیں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکولز، غکچ اور ہنزہ (گلگت بلتستان) باغ گرامر اسکول (آزاد جموں و کشمیر)،آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکولز، سین لشٹ اور کوراغ (خیبر پختونخوا)، نصرت جہاں کالج، چناب نگر، ہر سکھ ہائیر سیکنڈری اسکول، اور بلوم فیلڈز ہال اسکول جونیئر، لاہور (پنجاب)، جبکہ سندھ میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول، کریم آباد، حبیب گرلز اسکول،سلطان محمد شاہ آغا خان اسکول؛ المرتضیٰ اسکول اور دی ماما پارسی گرلز سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔


0 Comments