کرتارپور راہداری نے 75 برس بعد دو بچھڑے دوستوں کو ملا دیا

سال 1947 میں ہندو پاک کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت دو الگ الگ ریاستیں تو بن گئیں مگر زمین کی یہ ہونے والی تقسیم ان پر رہنے والے دلوں کو الگ نہیں کرسکی اور آج بھی ان میں بسنے والے کئی دل اپنے بچھڑنے والوں کی یاد میں اداس رہتے ہیں۔ ایسے میں چند خوش قسمت لوگ ایسے بھی ہیں جو کئی برسوں کی جدائی سہنے کے بعد اپنے دوستوں اور اہلخانہ سے مل پائیں ہیں۔

بھارت کے 94 سالہ سردار گوپال سنگھ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے 91 سالہ محمد بشیر کی کہانی دو بچھڑے ہوئے دوستوں کی ملاپ کی ایسی دل چھولینے والی کہانی ہے جو تقسیم ہند کے بعد اب 75 سال بعد ایک دوسرے سےملے ہیں اور کرتار پور راہداری ان دونوں دوستوں کو ملانے کا سبب بنی ہے۔

کرتار پور کے ذرائع کے مطابق گوپال سنگھ نے سرحد پار کر کے گوردوارہ دربار صاحب میں مذہبی رسومات ادا کی تھیں جب کہ بشیر بھی بطور مہمان گوردوارے گئے تھے۔ گوپال سنگھ گورودوارہ دربار صاحب پر جب ماتھا ٹیکنے کے لئے پہنچنے تو وہاں شکرگڑھ کے رہائشی بشیر احمد نے ان کو پہچان لیا۔ دونوں بچپن کے دوست نکلے جو تقسیم پاکستان سے قبل ایک ساتھ کھیلتے تھے۔

بشیر احمد کی جانب سے پہچاننے کے بعد گوپال سنگھ نے بھی ان کو پہچان لیا اتنے عرصے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو نم آنکھوں کے ساتھ گلے لگ گئے اور پھر دونوں دوستوں نے بچپن کی یادیں تازہ کیں۔مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ان دونوں دوستوں کی کہانی ایک صارف نے شیئر کی۔

اس ملاقات میں دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کے گھر والوں ،پرانے دوستوں کی خیریت دریافت کی ۔گوپال سنگھ اور بشیر احمد اس موقع پر بہت خوش دکھائی دئیے پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک کے زائرین نے دونوں دوستوں کو مبارکباد دی۔ دونوں پرانے دوست اپنے بچپن اور جوانی کے قصے سناتے تھے۔ گوپال سنگھ نے کہا کہ پاکستان بننے سے پہلے یہ دونوں اپنی ابتدائی جوانی میں تھے۔ بشیر نے بتایا کہ تقسیم سے پہلے بھی دونوں دوست بابا گرو نانک کے گوردوارہ جایا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: مردہ سمجھا جانے والا شخص 47 سال بعد گھر واپس آگیا

وہ دوپہر کے کھانے پر اکٹھے بیٹھے، کھانا کھایا اور چائے پی۔ ذرائع کے مطابق گوپال سنگھ نے کرتارپور کوریڈور کے منصوبے پر خوشی کا اظہار کیا اور اس پر حکومت پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا اور اپنے دوست سے ملاقات کے بعد وہ شام میں وہ ہندوستان واپس چلے گئے۔

بلاشبہ سوشل میڈیا کے توسط سے دنیا سکڑگئی ہے اور اب کسی بچھڑے ہوئے کیلئے اپنوں کو ڈھونڈنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایسی ہی ایک انوکھی ملاقات کے خوب چرچے وئے جس میں ایک بیٹے 70 سال بعد اپنی بچھڑی ہوئی ماں سے مل پایا ہے۔ بنگلہ دیشی شخص کی اپنی 100 سالہ ماں سے ملاقات کے موقع پر ماحول ناقابل یقین ہوگیا جب ماں نے اپنے بیٹے کو 70 سال بعد گلے لگایا۔ ماں بیٹے کی کئی عشروں کے بعد ہونے والی اس ملاقات کے مناظر دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے گاؤں کے لوگوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوگئیں تھیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago