پاک افواج کا بارشوں سے متاثرہ کراچی میں ریسکیو آپریشن شروع

شہر کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی موسلادھار بارشوں نے جہاں کراچی کی تمام بارشوں کا پرانا ریکارڈ توڑا وہیں شہر کے کئی علاقے زیر آب بھی آگئے، بیشتر شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے، جبکہ کئی علاقوں میں کئی کئی فٹ تک پانی گھروں میں داخل ہوگیا جس سے شہریوں کی معمولات زندگی معطل ہوکر رہے گئے، اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت سندھ کی جانب سے گزشتہ روز صوبہ بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں پاکستان آرمی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی انجینئرز بوٹس کو شہر کے مختلف علاقوں میں بھیجا گیا ہے جہاں سیلاب کی صورتحال میں محصور اور پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے کام سرانجام دے رہیں ہیں جبکہ پاک افواج کی جانب سے تیار شدہ کھانا، ان تمام آبادیوں اور بستوں تک پہنچایا جارہا ہے جہاں بارشوں سے متاثرہ لوگ، پوری پوری آبادیوں کی صورت میں پھنسے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جہاں پورے شہر بارشوں کے بعد صورتحال بد سے بدتر ہوئی وہیں ملیر ندی میں طغیانی کے باعث قریبی آبادی کوہی گوٹھ اور در محمد گوٹھ میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی جس میں علاقے میں کئی فٹ پانی جمع ہوجانے کے باعث200 کے قریب خاندان گھروں کی چھتوں پر محصور ہوکر رہے گئے تھے تاہم موسم کی بہتر صورتحال ہونے پر پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز نے چھتوں پر محصور لوگوں کو باحفاظت طریقے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

Image Source: Radio Pakistan

دوسری جانب ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لئے ہیوی مشینریز کا استعمال کیا جارہا ہے تاکہ ملیر ندی میں پڑھنے والے شگاف کو دوبارہ سے بھرا جاسکے۔ اس سلسلے میں ندی میں پانی کے بہاؤ میں واضح کمی دیکھنے میں بھی آئی ہے۔ ملیر ندی کا پانی ایک بار پھر سے معمول کے مطابق قائد آباد سے ملیر کی طرف بہنا شروع ہوگیا ہے۔ واضح رہے شدید بارشوں کے بعد ملیر ندی میں پانی کی سطح بلند ہوگئی تھی جس کے بعد ندی میں شگاف پڑ جانے سے قریبی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔

یاد رہے پیر اور منگل کی درمیانی رات 4 بچے شہر میں وقفے وقفے سے تیز بارشوں کے سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے باعث شہر میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جبکہ بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات بھی پیش آئے جس کے نتیجے 3 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago